ورلڈ ہیڈر ایڈ

آسام میں مودی سرکار کا ظالمانہ اقدام، شہریت منسوخ ہونے پرمسلمان خاتون نے کی خودکشی

مودی بھارت میں آر ایس ایس نظریئے کو پروان چڑھانے لگا، کشمیر کے بعد آسام پر بھی قیامت ڈھا دی، 19 لاکھ سے زائد مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر دی۔ ردعمل سے بچنے کے لیے ریاست آسام میں 80 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیئے گئے۔ شہریت منسوخ ہونے پر مسلمان خاتون نے کنویں میں چھلانگ کر خودکشی کر لی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے شہریت سے متعلق رجسٹریشن لسٹ جاری کرتے ہوئے 19 لاکھ 6 ہزار 657 افراد کو بھارتی شہریت سے محروم کر دیا، ان افراد میں بیشتر بنگلہ دیشی مسلمان ہیں جنہیں اب زمینیں، ووٹ ڈالنے کا حق اورآزادی چھین کر حراستی مرکز یا ملک بدر کر دیا جائے گا۔

بھارت سرکار نے ردعمل سے بچنے کے لیے ریاست میں 80 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات کر کے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ اس فہرست کو آسام میں انتہا پسندوں کے مطالبات کے بعد تیار کیا گیا جو ریاست میں مسلمان تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے ہندو اکثریت کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے امکان سے خوفزدہ تھے۔

مودی سرکار مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے، عمران خان

آسام میں این آر سی کی فائنل لسٹ میں جن کے نام شامل ہیں وہ اب ملک کے شہری مانیں جائیں گے اور جن افراد کے نام اس لسٹ میں نہیں ہیں ان کا سب کچھ ختم ہوا، اب وہ بھارت کے شہری نہیں رہے،

دوسری جانب کانگریس کے سینئر رہنما اور آسام سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ گورو گگوئی نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے سلسلے میں لاپرواہی کی ہے اور اس کی موجودہ صورت حال سے کوئی بھی خوش نہیں ہیں۔ ۔یہاں تک کے بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے وزرا بھی اس سے خوش نہیں ہیں۔ کانگریس اس سلسلے میں سب کو ضروری مدد فراہم کرے گی۔

انٹرنیشنل سکھ کنونشن میں گورنر پنجاب کے خطاب کے دوران سکھوں کے پاکستان زندہ باد کے نعرے

ریاست آسام کے علاقہ سونت پورہ کے ضلع تیج پور میں شہریت منسوخ ہونے پر مسلمان خاتون نے کنویں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی، خاتون کے شوہر شمشیر علی نے بتایا کہ وہ این آر سی کی آخری فہرست کے حوالہ سے پریشان تھی۔ موجودہ فہرست میں مسلمان خاتون کے شوہر اور بیٹوں کے نام نہیں تھے، سائرہ بیگم نے شہریت منسوخ ہونے پر خود کشی کر لی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.