fbpx

شوکت ترین کی بجٹ تقریر میں بڑی غلطی کاانکشاف

شوکت ترین کی بجٹ تقریر میں بڑی غلطی کاانکشاف

باغی ٹی وی : وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی بجٹ تقریر میں بڑی غلطی کاانکشاف ہواہے،سرکاری کاغذوں میں ایم ایل ون منصوبے پر کام شروع ہوچکاعملی طور پر ایک اینٹ بھی لگائی نہ جاسکی ،

سی پیک کے منصوبہ ایم ایل ون کو مارچ 2020میں شروع ہونے اور لاگت 9.3ارب ڈالر بتایا اور تحریر طور پر بھی یہی لکھا گیا ہے، جبکہ ایم ایل ون کی لاگت 6.8ارب ڈالر اور تین سال سے منصوبہ شروع ہی نہیں ہوسکاہے،منصوبہ کے لیے چین نے لون کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے ابھی تک ٹینڈر ہی نہیں جاری ہواہے ۔

اس خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی تقریر میں بڑی غلطی کا انکشاف ہواہے اس کو وزیر و حکام کی نااہلی قرار دیا جائے کہ منصوبہ شروع ہی نہیں ہوا اور انہوں نے کاغذات میں منصوبہ مارچ 2020میں شروع کرودایا ہے ۔جمعہ کو وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے تقریر کی کہ North South ریلوے انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے ML-1ایک اہم منصوبہ ہے جس کی لاگت 9.3ارب ڈالر ہے ۔اسے تین پیکیجز میں مکمل کیا جائے گا پیکیج 1کا آغاز مارچ 2020میں ہوچکاہے جبکہ پیکیج 2کا آغاز جولائی 2021میں ہوگا اور پیکیج 3کا آغاز جولائی 2022میں ہوگا

ہماری حکومت اس قومی پراجیکٹ کے کام کوتیز کرنے کی خواہش مند ہے جس سےلاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور سامان و مسافر لانے اور لے جانے کی خدمات میں بہتری آئے گی ۔اس خبر رساں ادارے کی تحقیق کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ کی اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والی بجٹ تقریر میں بھی اسی طرح لکھا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریلوے کا ایم ایل ون منصوبہ تین سال سے تاخیر کا شکار ہے اور ابھی تک کسی قسم کا عملی کام شروع نہیں ہوسکا ہے چین کی طرف سے ایم ایل ون منصوبے کی لون کی منظوری نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے ٹینڈر بھی نہیں دیا جارہاہے ایم ایل ون منصوبہ کی لاگت 6.8ارب ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.