شوگر تحریر: فرح بیگم

0
28

شوگر ایک ایسی بیماری ہے تو تا حیات رہتی ہے ۔یہ بیماری ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لا حق ہو سکتی ہے ۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجودہ گلوکوز کو حل کر کے خون میں شامل نہیں ہوتا ۔جس کی وجہہ سے دل کے دورے ، گردے فیل ، نا بینا پن ، پاؤں کٹنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کا ہر چوتھا بندا ڈیبیٹس کا شکار ہے ۔ شوگر کی بیماری سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ پاکستانی معذور ہے۔یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے ۔اور اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں ۔ عالمی صحت کے مطابق یہ بیماری آج سے 4 سال پہلے کے مطابق 4 گناہ زیادہ ہے ۔ کیوں کہ ہر چار میں سے ایک فرد کو یہ بیماری لازمی ہے۔اور یہ بڑھتی ہی چلے جا رہی ہے ۔ یہاں تک کہ شوگر پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہہ بھی ہے ۔
شوگر کی وجہہ یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس اور گلوگوز میں بدل دیتا ہے جس کے بعد پینکریاز میں ہارمون انسولین ہمارے جسم کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانا رہنے کے لیے اس شکر کو اپنے اندر جذب کرے۔ شوگر تب لا حق ہوتی ہے جب انسولین سہی مقدار میں نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہہ سی شوگر ہمارے اندر جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ شوگر کی کہیں اقسام ہیں ۔ٹائپ ون ڈیبیٹس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہہ سے شوگر خون میں جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ سائنس دان بھی اس کا حل نہیں نکال سکے انکا کہنا تھا کہ یہ کوئی جینیاتی اثر کی وجہ سی ہے ۔شوگر کے زیادہ تر مریض ٹائپ ون کا شکار ہیں ۔ ٹائپ ٹو میں لبلبہ ضرورت کے مطابق یا تو انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا.
کچھ حاملہ خواتین کو ڈیبیٹس ہو جاتی ہے ۔اس کی وجہہ یہ ہے کہ انکا جسم ان کے لیے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا ۔ ایک اندازے کے مطابق 6 سے 16 فیصد خواتین کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے ۔ وہ خواتین وازش کے ذریعے اسکو ختم کر سکتی ہیں ۔تا کہ اسکو ٹائپ ون میں جانے کے لیے روکا جا سکے ۔اگر لوگوں کو بڑھتی ہوئی گلولوز کے بارے میں بتا کر انکی مدد کر سکتے ہیں ۔ اگر علامات کی بات کی جائے تو سستی اور پیاس کا زیادہ لگنا، پیشاب زیادہ آنا، وزن کم ہونا، نظر کم آنا، زخموں کا نہ بھرنا شوگر کی علامت ہے. شوگر کا زیادہ انحصار جینیاتی اور ماحول پر ہوتا ہے۔ لیکن اپ اپنے آپ کو صحت مند غذا اور چست ذندگی اپنا کر رہ سکتے ہیں ۔ میٹھے کھانوں اور شربتوں سے اجتناب کریں۔ سفید روٹی کی بجاۓ خالض اٹے کا استعمال کریں ۔صحت مند غذاؤں میں پھل ، سبزی کا استعمال کریں۔ جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتی ہے ۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کے مطابق ہفتے میں کم از کم تیز چل قدمی اور سیڑھی چڑھنا مفید ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسکا ذمدار غربت کو کہا گیا ہے ۔

Twitter Id: @iam_farha

Leave a reply