بھارتی اداکارہ شرلن چوپڑا کیخلاف نامناسب مواد کی تشہیر پرقانونی کاروائی

بھارتی بولڈ اداکارہ 37 سالہ شرلن چوپڑا کے خلاف گزشتہ برس ایک شہری کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے سیکشن 67، سیکشن 67 اے، سیکشن 292 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2008 کے تین اور چار سمیت وومن پروٹیکشن ایکٹ 1986 کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

باغی ٹی وی : انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ کیس کے بعد شرلن چوپڑا کے خلاف ممبئی پولیس نے کارروائی کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں مگر اداکارہ نے مقامی عدالت میں قبل از گرفتاری کی ضمانت کی درخواست دے دی تھی جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔

تاہم مقامی عدالت نے 19 فروری کو اداکارہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے نامناسب مواد کی الیکٹرانک آلات پر تشہیر کرکے غیر قانونی کام کیا۔

مقامی عدالت کی جانب سے درخواست خارج کیے جانے کے بعد 19 فروری کو ہی اداکارہ نے بمبئی ہائی کورٹ میں دخواست دائر کردی اور عدالت نے پولیس کو اداکارہ کے خلاف فوری کارروائی کرنے سے روک دیا۔

اداکارہ کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا ہے وہ تمام دفعات بھارت میں فحش مواد کی تشہیر، اس کے پھیلاؤ اور خواتین کو نامناسب انداز میں پیش کرنے سے متعلق ہیں۔

شرلن چوپڑا پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی فحش فلمیں بناکر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی ہیں اور مذکورہ فلمیں یا مواد بھارت میں بھی دستیاب ہے تاہم اگر شرلن چوپڑا پر مذکورہ الزام ثابت ہوگیا تو انہیں 5 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

تاہم اداکارہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بتایا ہے کہ انہوں نے فحش مواد بھارتی ناظرین کے لیے نہیں بلکہ دیگر ممالک کے افراد کے لیے تیار کیا تھا اور مذکورہ مواد کو بھارت میں نہیں بلکہ دوسرے ممالک کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

شرلن چوپڑا نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ وہ خود سائبر کرائم سے متاثر ہیں کیوں کہ ان کے بیرون ممالک کی ویب سائٹس کے لیے بنائے گئے مواد کو وہاں سے اپ لوڈ کرکے مفت مواد دکھانے والی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شرلن چوپڑا پر ماضی میں فحاشی پھیلانے اور جسم فروشی جیسے الزامات لگ چکے ہیں اور انہیں پولیس نے 2017 میں جسم فروشی کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا۔

شرلن چوپڑا بولی وڈ کی نصف درجن سے زائد فلموں سمیت تامل، تیلگو اور پنجابی زبان کی فلموں میں بھی اداکاری کر چکی ہیں، تاہم انہیں زیادہ شہرت بالغ افراد کے لیے بولڈ مواد تیار کرنے کی وجہ سے حاصل ہے۔

گزشتہ ماہ جنوری میں شرلن چوپڑا نےبا لی وڈ فلم ساز ساجد خان پر بھی جنسی استحصال کا الزام لگایاتھا اور دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ فلم ساز کے پاس کام مانگنے گئی تھیں تو فلم ساز ان کے سامنے برہنہ ہوگئےتھے۔

ہدایتکار ساجد خان پر ایک اور بالی وڈ اداکارہ نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کردیا

ویویک اوبرائے کو اہلیہ کے ہمراہ موٹر بائیک کی ویڈیو شئیر مہنگا پڑ گیا

کروڑوں روپے کی پیشکش کے باوجود سلمان خان کی گھوڑا خریدنے میں ناکام

بھارتی اداکارہ کو ہوٹل ملازم کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.