سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

0
72

سیالکوٹ واقعے میں ملوث 100 سے زائد ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

باغی ٹی وی : سیالکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہےاس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔


پنجاب پولیس نے سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ متعلقہ حکام کوبھیج دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث 118 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے 160 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے جو 12 گھنٹوں کی ہے۔


ان گرفتاریوں میں سے سیالکوٹ واقعے میں ملوث 13 ملزمان کی شناخت ہوچکی ہے جن کے نام یہ ہیں:لاش کو گھسیٹنے والا احتشام، جلتی لاش کے ساتھ سیلفی لینے والا جنید ، میڈيا کے سامنے اعتراف جرم کرنے والے طلحہ عرف باسط اور فرحان ادریس، ورکرز کو اشتعال دلانے والا صبور بٹ، تشدد میں ملوث عثمان رشید ، شاہ زیب احمد ، عمران ، عبدالرحمان ، شعیب عرف گونگا، اور راحیل عرف چھوٹا بٹ، پرتشدد ہجوم میں شامل ناصر،فیکٹری کی چھت پر اینٹ اٹھاکر مارنےوالا تیمور احمد بھی گرفتار ہے-


اس کے باوجود ابھی اور بہت سے چہرے ہیں جو با آسانی شناخت کیے جاسکتے ہيں پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کر کے اس کا فارنزک آڈٹ کرایا جا رہا ہے۔

پنجاب پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے واقعے سے متعلق تفتیش کی جا رہی ہے۔

سری لنکن منیجر کو بچانے والے شہری کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیاسیالکوٹ واقعے کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھاجاسکتا ہےکہ وحشی ہجوم کے درمیان ایک بے بس شخص لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتا رہا اور پریانتھا کمارا کی زندگی کی بھیک مانگتا رہا، لیکن بے حس ظالم ہجوم میں سے کسی نے ایک نہ سنی، الٹا اسی کو دھکے مارےگئے، دائیں بائیں گھسیٹا گیا۔

کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر: بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار…

پریانتھا کمارا کو بچانےکی کوشش کرنے والوں میں ایک اور شخص بھی تھا جس نے اسےکَور کیا ہوا تھا اور خود مار کھا رہا تھا اور اسے بچانےکی کوشش کر رہا تھا۔پولیس نے دیگر ملزمان کے علاوہ دونوں افرادکو بھی اپنی تحویل میں لے رکھا ہے پریانتھا کمارا کو بچانےکے لیے خود کی جان خطرے میں ڈالنے والا دوسرا شخص اسی فیکٹری کا پروڈکشن منیجر تھا جو کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پریانتھا کمارا پر جب فیکٹری ملازمین نے حملہ کیا تو پروڈکشن منیجر نے انہیں چھت پر چڑھا کر دروازہ بند کردیا،تاہم 20 سے 25 مشتعل افراد دروازہ توڑ کر اوپر آگئے اور پریانتھا پر حملہ کردیا، اس موقع پر پروڈکشن منیجر درخواست کرتا رہا کہ پریانتھا نےکچھ کیا ہے تو انہیں پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔تاہم ہجوم نے ایک نہ سنی اور الٹا پروڈکشن منیجر کو زدوکوب کیا۔

سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

واضح رہے کہ سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی شہری تشدد سے ہلاک ہوا۔ ہلاکت کے بعد لاش کو جلایا گیا۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے وزیر نوجوانان اور اسپورٹس نمل راجہ پاکسا نے پریانتھا کمارا کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی سری لنکن وزیراعظم مہندر راجہ پاکسا کے وزیر بیٹے نمل راجہ پاکسا سیالکوٹ میں قتل ہونے والے فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے دارالحکومت کولمبو کے گھر پہنچےملاقات میں مقتول فیکٹری منیجر کی اہلیہ اور دو بچے بھی موجود تھے۔

یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

سری لنکن وزیراعظم کے بیٹے نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی اپیل کی۔

اس سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں مقتول فیکٹری منیجر کی اہلیہ کا کہنا تھاکہ میرے شوہر معصوم انسان تھے، خبروں سے پتا چلا کہ بیرون ملک اتنا کام کرنے کے باوجود میرے شوہر کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا انہوں نے سری لنکا کے صدر اور پاکستان کے صدر و وزیر اعظم سے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میرے شوہر اوردو بچوں کو انصاف دیا جائے۔

مقتول فیکٹری منیجر کے بھائی کا کہنا تھاکہ پریا نتھا 2012 سے سیالکوٹ کی اس فیکٹری میں ملازمت کر رہے تھے، فیکٹری کے مالک کے بعد پریانتھا نے ہی اس کا تمام انتظام سنبھالا ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کے اعتبار سے پریا نتھا کمارا ایک انجینیئر تھے اور ان کے دو بچے ہیں جن کی عمریں 14 اور 9 سال ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔

انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔

دوسری طرف سری لنکن وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے سانحہ سیالکوٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقین محکم سے سری لنکن عوام کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،

مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے لکھا کہ سری لنکن منیجر کے پاکستان میں قتل پر صدمے میں ہوں، میری ہمدردی سری لنکن منیجر کے اہلخانہ کیساتھ ہے،وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے کہا کہ سری لنکا اور اس کے عوام کو وزیراعظم عمران پر یقین ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ عمران خان ذمے داروں کو کٹہرے میں لائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سری لنکن صدر کو یقین دلایا کہ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

Leave a reply