نو ماہ تک کشمیر میں لاک ڈاؤن پر خاموشی، پہلے کرونا کی وجہ سے دنیا میں لاک ڈاؤن اور اب امریکہ میں کرفیو

سری نگر:نو ماہ تک کشمیر میں لاک ڈاؤن پر خاموشی، پہلے کرونا کی وجہ سے دنیا میں لاک ڈاؤن اور اب امریکہ میں کرفیو،باغی ٹی وی کے مطابق کشمیر میں بھارتی مظالم پرچپ رہنے والے اور کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاون جیسے ہتھکنڈوں پرمجرمانہ خاموشی رکھنے والے امریکہ پروہی کیفیت طاری ہوگئی ہے جو جس قسم کی کیفیت کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے پیدا کی گئی تھی

ذرائع کے مطابق 5 اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جس طرح بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی چیخ وپکارپرعالمی برادری نے خاموشی اختیارکی اورخاص کرامریکہ جیسی عالمی قوت نے اس موقع مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ختم کرنے اور کرفیو اٹھانے کے حوالے سے بھارت کو مجبورنہ کیا توآج خود امریکہ اسی کیفیت سے دوچارہے

 

باغی ٹی وی کے مطابق ویسے تو مقبوضہ کشمیر پربھارتی تسلط کو پون صدی ہوچکی ہے لیکن پچھلے سال 5 اگست کو بھارت نے جو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے اس کے بعد تو کشمیریوں کی زندگی اورمشکل ہوگئی ہے ،پہلے کشمیری گھروں سے باہرنکل کر احتجاج لیا کرتے تھے تاہم نو ماہ ہوچکے ہیں کشمیریوں کے دروازوں پربھارتی فوجی بندوق لے کر کھڑے ہیں اورگھر سے باہرجھانکنے بھی نہیں دیتے

 

اس دوران مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر سے کشمیریوں اور کشمیریوں سے محبت کرنے والوں نے عالمی برادری سے خصوصی اپیلیں کیں کہ کشمیرمیں سے بھارتی قابض افواج کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکے خصوصا امریکہ جیسی عالمی طاقت سے مطالبات سامنے آئے لیکن امریکہ نے کوئی پرواہ تک نہیں

 

ذرائع کے مطابق پچھلے سال 5 اگست سے لیکر اب تک 300 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے ، زخمی کشمیریوں کی تعداد بھی کم نہیں ، لیکن اس کے باوجود امریکہ جیسی عالمی طاقت کو کوئی احساس نہیں ہوا

 

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے قانون میں تبدیلی کی اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے دور کا آغاز کیا، ویسے تو کشمیریوں پر ظلم و ستم برسوں پہلے شروع ہوا تھا اور کشمیر کی تقسیم اور بندر بانٹ اونے پونے داموں کرنے کا آغاز کیا گیا تھا مگر ان سب کے باوجود کشمیریوں کی صدائے حریت بھی برسوں سے ہی گونج رہی ہے۔

 

بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرار داد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی۔

 

بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تاہم اس کا نفاذ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کردیا گیا۔

 

بھارتی حکومت نے 5 اگست کے اقدام سے دو روز قبل دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کو جموں و کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی 10 ہزار اضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ مزید 25 ہزار نفری کو بھی طلب کیا گیا، بھارتی حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی سیاحوں نے بھی مقبوضہ وادی سے واپسی شروع کی، دہشت گرد حملے کے خطرات کی وارننگ جاری کرنے پر وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں، ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے۔

 

  • اس موقع پر بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ریاستی تشدد بھی جاری رکھا اور 3 اگست کو ضلع بارامولا اور شوپیاں میں محاصرہ کرکے آپریشن کے دوران 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا، بھارتی فوجی نے ایک روز قبل ہی اسی علاقے میں نوجوان زینت الاسلام کو بھی قتل کیا تھا، یہ کارروائی اگست میں پھیلنے والے اندھیرے کی نوید بھی تھی جو طویل جبر کی رات کا پیش خیمہ بنی،یوں 3 اگست سے ہی کشمیریوں پرظلم کی نہ مٹنے والے رات شروع کردی گئی

امریکہ جو اس وقت ایک نہیں کئی بحرانوں کی زد میں ہے ، ایک طرف کرونا سے تباہی مچی ہوئی ہے دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے نظریں چرانے والے امریکہ کو وہی صورت حال درپیش ہے ،

 

 امریکہ میں کرونا کی وجہ سے مظاہرے

    
آدھی سے زیادہ دنیا ابھی تک لاک ڈاؤن میں ہے اور بہت احتیاط کے ساتھ آہستہ آہستہ معیشت کے پہیے کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان ریاستوں میں لوگ لاک ڈاؤن کے خلاف گذشتہ چند دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں جس میں اب میں شدت آتی جا رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی تصاویر میں امریکی ریاستوں میں جاری احتجاجی مظاہروں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے جس میں شہری لاک ڈاؤن کی پرواہ کیے بغیر سینکڑوں کی تعداد میں سراپا احتجاج ہیں۔

روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تمام ریاستوں میں ڈیموکریٹس کے گورنرز ہیں، تاہم انہوں نے اوہائیو اور اوٹاوا کا نام شامل نہیں کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے معیشت کو کھولنے کے لیے دی گئی گائیڈ لائنز میں ریاستوں کے گورنرز کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اختیار دیا تھا۔

لیکن جمعے کو اپنی ٹویٹ میں انہوں نے کہا ’مشی گن، منی سوٹا اور ورجینیا کو آزاد کرو‘، جس پر ان ریاستوں میں ڈیموکریٹس رہنماؤں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے جن امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہوئے ان میں ورجینیا، منی سوٹا، ٹیکساس، مشی گن، کیلفورنیا اور واشنگٹن شامل ہیں اور یہ سلسلہ دیگر ریاستوں تک بھی پھیل رہا ہے۔

دوسرے ممالک کی نسبت امریکہ میں کورونا متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک سات لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

 

اس وقت کرونا سے ایک لاکھ سے زائد امریکی ہلاک ہوچکے ہیں ، آج امریکہ سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق اب تک 10575 امریکی کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں

 

جبکہ کرونا وائرس کے شکارہونے والے امریکیوں کی تعداد 18 لاکھ 17 ہزارسے تجاوز کرچکی ہے،

 

کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ کو اب تک 5 کھرب ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے ، یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ کرونا کی وجہ سے 50 لاکھ سے زائد امریکی روزگار سے محروم ہوچکے ہیں ، جبکہ پہلے ہی اڑھائی کروڑ امریکی نوکریوں کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے

 

یہ تو کرونا کی وجہ سے ہونا والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ ہے ، دوسری طرف امریکہ میں ذات پات اوررنگ ونسل کی بنیاد پر بہت زیادہ لڑائیاں ہوتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ چند دن قبل ایک سفید     فام امریکی پولیس والے کے ہاتھوں ایک سیاہ فام کے قتل کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں نے امریکہ کی رہی سہی کسر نکال دی اوراب تک 17 ریاستوں کے 29 بڑے شہروں میں کرفیو نافذ ہے ،

 

 

کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاون پرنظریں چرانے والے امریکہ کو بالکل ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے اورمہذب امریکہ جو دنیا کو چھوٹی چھوٹی بات پرجھاڑ پلا دیتا تھا اب اپنے ملک کے حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ اپنے ہی شہیریوں کے خلاف فوج اتارکران کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں

 

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کرونا کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے علاوہ جو نقصان ان مظاہروں اورہنگاموں کی صورت میں ہوا ہے اس کا تخمیہ بھی 35 ارب ڈالرز سے زائد ہے اوریہ بھی بتایا جارہا ہےکہ ان فسادات مین اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

 

  امریکہ اپنے انجام کی طرف رواں دوان : مظاہروں میں شدت، 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ،حالات پھربھی بے قابو,اطلاعات کے مطابق امریکا میں ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

 

پولیس کی برسائی جانے والی گولیاں اور شیلز لگنے سے متعدد لوگ زخمی ہوئے—تصویر: اے پی

 

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ وہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے دم توڑ گیا تھا۔

جس کے بعد مینیا پولس شہر میں ہنگامہ مچ گیا اور مشتعل مظاہرین گھروں سے نکل آئے، پولیس اسٹیشنز سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگائی، کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور اسٹورز کو لوٹ لیا گیا۔

اس کے علاوہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی اور براہِ راست پتھراؤ بھی کیا جبکہ پولیس کی جانب سے ان پر ربر کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیلز برسائے گئے۔

 

احتجاج کا یہ سلسلہ پر امن انداز میں شروع ہوا تھا جو پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور اشتعال انگیزی میں تبدیل ہوا اور برسوں سے پولیس کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کے لیے یہ بے امنی اس وقت ایک قومی رجحان کا روپ دھار چکی ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکام نے 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد ڈسٹرک کولمبیا سمیت درجنوں ریاستوں میں نیشنل گارڈ کو طلب کرلیا گیا ہے۔

جن شہروں میں کرفیو نافذ کی گیا ان میں لاس اینجلس، میامی، اٹلانٹا، شگاگو، منی پولس، سینٹ پاؤل، کلیولینڈ، کولمبس، پورٹ لینڈ، فلاڈیلفیا، پٹس برگ، چارلسٹن، کولمبیا، نیش ولے اور سالٹ لیک سٹی شامل ہیں۔

احتجاج کے دوران مظاہرین جارج فلائیڈ کے دم توڑتے ہوئے الفاظ ’مجھے سانس نہیں آرہی‘ کے نعرے لگاتے نظر آئے اور اب تک کی کشیدہ صورتحال میں مختلف ریاستوں میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

علاوہ ازیں پولیس کی برسائی جانے والی گولیاں اور شیلز لگنے سے متعدد لوگ زخمی ہوئے جبکہ انڈیانا پولس میں ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی۔

ادھر 4 روز سے منی پولس میں جاری آتش زنی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے باعث جنگ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ منی سوٹا نیشنل گارڈ کو پوری طرح متحرک کردیا گیا۔

منی سوٹا میں نیشنل گارڈ کو متحرک کردیا گیا—تصویر: اے پی
 

اس سلسلے میں منی سوٹا گورنر کا کہنا تھا کہ گارڈز کی تقرری ضروری تھی کیوں کہ بیرونی جارحیت پسند جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاج کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ غیر معمولی طور پر پینٹاگون کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ منی سوٹا کے گورنر کی جانب سے امن برقرار رکھنے میں مدد کی درخواست کرنے کی صورت میں فوجی دستوں کو 4 گھنٹوں کے نوٹس پر الرٹ رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

امریکا میں کئی ہفتوں سے جاری کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سڑکوں پر مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی نے بحرانی کیفیت کو ہوا دی ہے۔

ادھر دارالحکومت واشنگٹن میں بھی سیکڑوں مظاہرین نے محکمہ انصاف کی عمارت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’سیاہ فاموں کی جانیں اہم ہیں‘ کے نعرے لگائے، جس کے بعد متعدد افراد وائٹ ہاؤس کی جانب چل پڑے جہاں انہیں بھاری تعداد میں شیلڈز پکڑے پولیس اہلکاروں کا سامنا ہوا۔

اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر لیفیٹ اسکوائر پر جمع ہونے والے مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے پار جنگلے کو توڑنے کی کوشش کی تو ’ان کا استقبال اس طرح کے خطرناک ترین کتوں اور پر آشوب ہتھیاروں سے کیا جائے گا جو شاید ہی میں نے دیکھے ہوں‘

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.