fbpx

سندھ اسمبلی پری بجٹ اجلاس, پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج کا خطاب

‏سندھ اسمبلی پری بجٹ اجلاس, پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج کا خطاب.خطاب میں کہا سندھ اپنے مالی اہداف حاصل کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہی وفاق نے ۴۲ فیصد جبکہ سندھ نے صرف ۳۰ فیصد محصولات اہداف حاصل کئے مراد علی شاہ دس سال سے صوبائی وزیر خزانہ ہیں مگر کارکردگی صفر ہے۔‏مراد علی شاہ کی کارکردگی صرف اومنی گروپ کیلئے ہے۔مراد علی شاہ کو پی ڈی ایم کے جلسوں میں کرونا نظر نہیں آیا۔مراد علی شاہ نے کرونا پر دوہرہ معیار اختیا کیا ۔ان کے لاک ڈاؤن کا فائدہ پولیس اور بیورو کریسی اٹھا رہے ہیں۔‏آج تک لوگ بیس لاکھ راشن کے تھیلے ڈھونڈ رہے ہیں۔ایک وزیر الیکشن کا خرچہ تو کیا شادی کا خرچہ بھی اٹھاتا ہے ۔انہوں نے سینیٹ کی خریدو فروخت کیلئے بھی بجٹ مختص کیا تھا اس کا بوج بھی اسی وزیر پر کریس
‏ان کا سیکریٹری خزانہ نیب میں اپنا جرم قبول کر چکا ہے۔قوم کا پیسہ چوری کر کے ان کے سیکریٹری نے واپس بھی کیا۔انہوں نے اس کو نوکری پر واپس رکھ دیا تا کہ پیسہ آتا رہے۔۲۰۱۱ میں بجٹ کا ۷۰ فیصد بابوں پر لگتا تھا اب وہ بڑھ کہ ۸۸ فیصد ہو گیا ہے۔‏یہ بابو سندھ کو چونا لگا رہے ہیں۔سکول ہسپتال ایمپولنس جب سب نجی اداروں نے چلانا ہے تو یہ بابو کیا کرتے ہیں ؟ان سے حکومت نہیں چلتی تو حکومت کو بھی نجی ادارے کو دے دیں۔تقریباً ۵۰۰ ملازمین و افسران پلی بارگین لے چکے ہیں۔‏زراعت سے آمدن دس سال پہلے ۱۱ کڑوڑ تھی ابھی صرف ۶۲ کڑوڑ ہے۔دس سال میں کچھ نہیں بدلا ۔ اگر بدلا ہے تو ان کے نجی مال و دولت ۔گزشتہ سال صحت پر ۱۷۰ ارب لگنے کے بعد بھی حالات سب کے سامنے۔تعلیم پر گزشتہ سال ۲۵۰ ارب خرچ کیے مگر بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔
‏وفاق نے احساس پروگرام کے ذریعے سندھ میں پچاس لاکھ لوگوں میں ۶۰ ارب رقم دی۔بدترین صحت صورتحال ہونے کے بعد بھی یہ کہتے ہیں ہم صحت کارڈ نہیں دینگے۔کراچی پیکچ کے وقت کہتے تھے ۷۰۰ ارب ہم لگا رہے ہیں ۔سندھ حکومت نے کراچی پیکچ کے ۷۰۰ ارب کہاں لگائے ؟‏اورینج لائن گزشتہ سال چلنی تھی وہ بھی نہ چلی۔دوسرے جانب تمام وفاقی منصوبے تیزی سے بڑی رہے ہیں۔وزیراعظم نے سندھ پیکج کا اعلان کی انکو اس پر بھی مرچیں لگ گئی۔وفاق سندھ کے ۱۴ اضلاع میں نادرہ سینٹرز پاسپورٹ دفاتر کھیلوں کے منصوبے شروع کر رہا ہے۔‏سندھ کے دیہی علاقوں میں گیس اور بجلی کی نظام، ریلوے اسٹیشن بھی بنائے گے۔سندھ میں ۴جی اور فائبر آپٹک سمیت نوجوانوں کے کئے خصوصی پیکج بھی وفاق کر رہا ہے۔‏ہمارا مطالبہ ہے عالمی اداروں کے ذریعے ہونے والے منصوبوں کی رپورٹ اسمبلی میں لائے جائے۔آن لائن سروس ٹیکس کو کم کیا جائے تاکہ آن لائن کاروبار کرنے والوں کا رجحان بڑھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.