ورلڈ ہیڈر ایڈ

سندھ کارڈ کے زمینی حقائق ——– از انشال راؤ

بعض واقعات بظاہر دیکھنے میں بالکل عام ہوتے ہیں مگر پس پردہ بہت بڑے طوفان چھپے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح پی پی پی چیف بلاول بھٹو صاحب نے پریس کانفرنس کرکے ملک کے حصے بکھرے کرنے کی دھمکی دے دی یا یوں کہیے کہ بغاوت کا اعلان کردیا اور ساتھ ساتھ پختونستان، سرائیکستان یا بلوچستان بطور علیحدہ ریاست بننے کا اظہار کرکے یہ اشارہ دے دیا کہ اندرون خانہ ان کی لڑی کہاں سے کہاں تک ہے، اس کے علاوہ اہم بات یہ کہ مسٹر فروغ نسیم صاحب کو کیا سوجھی جو ان صاحب نے پی پی پی کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لیے سندھ کارڈ کھیلنے کا موقع دے دیا،

ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ جب بھی الیکشن یا کوئی ایسا خاص موقع آتا تو متحدہ اور پی پی پی آمنے سامنے آجاتے، ایک مہاجر بن کر کھڑے ہوجاتے تو دوسرے جِئے سندھ کے علمبردار بن جاتے جبکہ اب بات کھلی تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی تو کاروباری شراکت داریاں تک ہیں، یہاں بات وہیں آکر ٹھہرتی ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات و واقعات کو سمجھنے کے لیے اوقات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے،

عبداللہ بن اُبئی کی ہی مثال لے لیجئے وہ منافق روز اول سے ہی تھا سازشوں میں روز اول سے ہی پیش پیش رہا مگر امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا اس وقت گھونپا جب غزوہ احد کا میدان سجا، اس کے منافق ہونے کا حضور اقدسؐ کو بخوبی معلوم تھا اور جب وہظاہر ہوگیا تو اعلانیہ اسے نکالا، منافقوں کی آج بھی بہتات ہے پاکستان کو بیرونی دشمنوں کیساتھ کیساتھ اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرات ہیں جو ایک طرف تو بیرونی دشمن کے ایجنڈے کو تقویت بخشتے ہیں دوسری طرف ملکی استحکام کے لیے کوشاں افراد کی توجہ ہٹانے اور الجھانے کا کردار ادا کرتے ہیں اس گروہ کی جڑیں اب بہت مضبوط ہوگئی ہیں اور ہوتی جارہی ہیں اسکی وجہ یہ کہ حکومت یا اداروں کی طرف سے کوئی خاطرخواہ ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا، جتنی مہلت و ڈھیل ملتی گئی تو انکی جڑیں بجائے سکڑنے کے اندر ہی اندر پھیلتی جارہی ہیں،

یہ گروہ سیانا ہی نہیں بلکہ بہت سیانا ہے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، سمجھداری کا یہ عالم ہے کہ حکومتی لچک و کمزوری کو بہت دور سے بھانپ لیتا ہے اور پھر شیر بن جاتا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے کچھ عرصہ پہلے تک انکی کمر واقعی ٹوٹ چکی تھی مگر موجودہ حکومت کی نااہلی و بیوقوفی کی بدولت ایک بار پھر اس گڑھے مردے میں جان آگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگی حالات کو بھانپ کر سندھ کی حکمران جماعت نے اپنے کالے کرتوت دبانے کے لیے یا پھر کسی بیرونی اشارے پر اعلان بغاوت کردیا ہے

سندھ میں لسانی کارڈ وہ بھی وفاق کے خلاف کھیلا جارہا ہے، اب سے پہلے تک سندھ کارڈ ضرور کھیلا جاتا رہا جوکہ یا تو مہاجر کمیونٹی کو بنیاد بناکر کھیلا جاتا یا پھر الیکشن میں فائدے کے لیے یا پھر دبے چھپے انداز میں وفاق کو دھمکانے کے لیے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک منظم انداز سے اور اعلانیہ وفاق و ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف نفرتیں و لسانیت ابھارنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے مگر سوال یہ بنتے ہیں کہ کیا سندھ کارڈ کامیاب ہوپائیگا؟ سندھ کارڈ کی جڑیں عوام میں کتنی سرایت کردہ ہیں؟ وفاق کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کھیل کس حد تک نقصاندہ اور توجہ طلب ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب کے لیے ماضی کی تاریخ پہ نگاہ ڈالنی پڑیگی، آج کے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا،

اگر سندھ کارڈ کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات تو بذریعہ اتم موجود ہے کہ سندھ کے باسی قوم پرست تو شروع سے ہی ہیں اس کا اندازہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک میں ایک پیج پہ ہونے سے لگایا جاسکتا ہے اور 1937 کے انتخابات سے کہ مسلم لیگ تک یہاں سے ایک سیٹ بھی حاصل نہ کرپائی تھی لیکن سندھ کی تاریخ ہی بتاتی ہے کہ عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہی، سندھو دیش کی تحریک چلانے والے جی ایم سید ہی اپنی کتاب "سندھ کی بمبئی سے علیحدگی” میں لکھتے ہیں کہ جاگیرداروں، وڈیروں، قومی سرداروں کو انگریز سرکار نے رعایتیں دیکر اپنا مطیع بناکر سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک کو ابھرنے نہ دیا اور عوام مجبور تھی جو ان سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں کی محتاج تھی،

اسی طرح قیام پاکستان کے بعد کی تاریخ بالخصوص 2000 کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کی عوام کا مزاج یہ ہے کہ جو پاور میں ہو اسی کو سلام کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ سندھی عوام میں کوئی نقص ہے بس اتنی سی بات ہے کہ قیام پاکستان سے قبل بالعموم اور قیام پاکستان کے بعد بالخصوص سندھ کے عام باسیوں کو کمزور سے کمزور تر کرکے رکھدیا گیا ہے، عوام تو بیچاری اپنی روزی روٹی تک ہی محدود ہے بس ہر علاقے میں ایک دو وڈیرے ہی طاقتور ہیں انکے ساتھ سو دو سو مفاد پرستوں کا جتھہ ہوتا ہے جو حالات کو دیکھتے ہوے پانسہ پلٹتے دیر نہیں لگاتے، عوام کس حد تک پی پی پی کے سندھ کارڈ کیساتھ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ مشرف دور میں پیپلزپارٹی رہنماوں کی اوطاقیں و ہاوسز ویران پڑے ہوتے تھے جبکہ حکمران جماعت کے رہنماوں کی اوطاقوں و آفسز پہ لوگوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا پھر وقت نے پلٹا کھایا تو آج وہی فنکشنل و ق لیگ کے رہنما ہیں جن کی طبیعت پوچھنے بھی کوئی نہیں جاتا،

جب سے سوشل میڈیا و میڈیا مضبوط ہوا تو ایک حیران کن تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ لوگ اب سیاسی بتوں سے بیزاری کرتے نظر آتے ہیں بس وہی مخصوص مفاد پرست طبقہ ضرور چمٹا رہتا ہے جن کے مختلف مفادات حکمران جماعت سے وابستہ ہیں، رہی بات ووٹ کی تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ آزاد ہیں ہی نہیں، جہاں وڈیرے کا حکم ہوا لوگ وہیں ووٹ ڈال دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ کہ پولیس ہو یا محکمہ تعلیم، صحت ہو یا بلدیہ، ریونیو ہو یا محکمہ زراعت یا پھر آبپاشی الغرض تمام محکمے علاقائی وڈیروں کے ماتحت ہیں ان ہی کی مرضی و منشاء پہ کام ہوتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے عام آدمی ایسے جنگل زدہ ماحول میں طاقتور آدمی کی ناپسندیدگی کا شکار ہونا کبھی پسند نہیں کریگا، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار اسی لیے دیا کہ انسان کو عقل سلیم عطا فرمائی،

اب یہ اس انسان پر ہے کہ وہ کس حد تک عقل کا استعمال کرے اور ساتھ میں فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیا، ایک موجودہ حکومت ہے جس کا ہر اول دستہ سارا دن ڈھولکی بجاتا ہے جبکہ حاصل کچھ نہیں، ہر دوسرے دن جب تک یہ کوئی ڈگڈگی بجاکر نیا تماشہ نہ کھڑا کریں تب تک ان کو چین نہیں آتا اور اس سارے کھیل میں بندر کا کردار عوام کو دے رکھا ہے جو امیدیں تو بہت سی باندھے بیٹھے تھے مگر اب مایوس سے مایوس ترین ہوتے جارہے ہیں، اب وقت بہت محدود حد تک رہ گیا ہے مقتدر حلقے اگر واقعی ملک کیساتھ سنجیدہ ہیں عوام کو سانس لینے کے لیے بہتر ماحول مہیا کرنا چاہتے ہیں تو خدارا زمینی حقائق کو ضرور دیکھ لیا کریں، ایک کھوکھلے سندھ کارڈ کے نعرے سے یوں مرعوب ہوجانا سمجھ سے بالا تر ہے اور کرپشن، اندھیرنگری، خراب کارکردگی، اقربا پروری، جعلسازی،اداروں میں لاقانونیت، میرٹ کے قتل عام کے اصل جواز کی جگہ کراچی کے کچرے کو بنیاد بناکر پیش کرنا کہاں کی عقلمندی ہے یہ تو تحقیق طلب بات ہے۔

آرزوئے سحر

تحریر: انشال راؤ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.