fbpx

سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

سندھ حکومت عوام پر روزانہ کوڑا کرکٹ اٹھانے کیلئے کچرا فیس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس پیشرفت کی تصدیق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر احمد چنہ نے کی ہے۔

کراچی کے سپر اسٹور میں آتشزدگی کا واقعہ ، سندھ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا کہنا ہے کہ بورڈ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے کے چارجز ان کے ماہانہ بلوں میں شامل کئے جائیں۔البتہ ایس ایس جی سی ایل نے اپنے یوٹیلیٹی بلوں میں کچرا اٹھانے کے چارجز شامل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

زبیر چنہ کا کہنا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کچرا اٹھانے کی فیس کی وصولی کیلئے اپنا ریونیو سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے ورلڈ بینک سے موبائل سافٹ ویئر ایپلی کیشن کیلئے منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے۔زبیر چنہ نے موبائل ایپلی کیشن سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ طریقۂ کار تھوڑا مشکل ہے، لیکن بورڈ نے ریونیو اکٹھا کرنے کی ایپلی کیشن کے بنانے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس کے ذریعے عوام سے کچرا فیس کی وصولی کی جائے گی۔

ریونیو اکٹھا کرنے کے پورے نظام کو چلانے کیلئے ورلڈ بینک کی منظوری کے ساتھ ایک سافٹ ویئر تیار کیا جانا ہے، اس سافٹ ویئر کی تخمینی لاگت تقریباً 40 سے 50 ملین (چار سے 5 کروڑ) روپے ہے۔

سندھ حکومت کی جیالہ فورس نے پی ٹی آئی کو نیزے پر رکھا ہوا ہے:بلال غفار

یہ نظام کیسے کام کریگا؟
ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر چنہ نے گاربیج فیس کلیکشن سسٹم سے متعلق بتایا کہ سب سے پہلے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جائے گی اور اسے ریونیو اکٹھا کرنے والے مرکزی سیل سے منسلک کیا جائے گا۔

کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی فیس کیسے لی جائے گی؟
کسی خاص علاقے میں بورڈ نے ایک ایسے شخص کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مذکورہ علاقے میں معروف ہو اور اس کے آس پاس کم از کم 10 سال سے رہ رہا ہو۔ وہ شخص، جس کا اس مخصوص علاقے میں نچلی سطح پر رابطہ ہے، وہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا نمائندہ ہوگا، جو رہائشی یونٹوں سے کوڑا کرکٹ کی فیس لینے کا مجاز ہوگا۔

ایس ایس ڈبلیو ایم بی اس شخص کو ایک آئی ڈی جاری کریگا اور اسے موبائل سافٹ ویئر میں اپ لوڈ کرے گا، جیسے ہی ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا نمائندہ کسی بھی گھر سے کوڑا کرکٹ کی فیس جمع کرے گا تو سسٹم اس کی نشاندہی کرے گا۔

منشیات فروشی کے خلاف سندھ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی

کچرا فیس جمع کرنے کی ذمہ داری لینے والا شخص بورڈ کے پاس 10 لاکھ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرائے گا۔ بورڈ اس فرد کو بینکوں سے 10 لاکھ روپے تک کا مائیکرو فنانسنگ قرض لینے میں مدد کریگا۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے پہلے ہی مذکورہ سفارش کی منظوری دے دی ہے اور بینک اس سلسلے میں قرضے جاری کرنے پر متفق ہیں۔

ابتدائی طور پر بورڈ نے رہائشی یونٹس کیلئے کچرے کی فیس کا ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔ اسے 3 اقسام کم آمدنی والے علاقے، درمیانی آمدنی والے علاقے اور زیادہ آمدنی والے علاقے میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے سے 300 روپے تک رکھی گئی ہے۔

کم آمدنی والے علاقوں کیلئے کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے ماہانہ، درمیانی آمدنی والے علاقوں کیلئے ماہانہ 200 روپے اور زیادہ آمدنی والے علاقوں کیلئے یہ فیس ماہانہ 300 روپے ہوگی۔ایس ایس ڈبلیو ایم بی کی کچرا اٹھانے کی فیس 6 کنٹونمنٹ بورڈز پر لاگو نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے پاس کچرا اٹھانے کا اپنا نظام اور ملازمین ہیں۔

صنعتی اکائیوں کیلئے فیس کا ڈھانچہ درج ذیل ہے۔
صنعتی صارفین کو بھی 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھوٹے صنعتی یونٹوں کیلئے 2000 سے 4000 روپے ہے، درمیانی صنعتی اکائیوں کیلئے چار ہزار سے 6 ہزار اور بڑی صنعتی اکائیوں سے 6 ہزار سے 10 ہزار روپے وصول کئے جائیں گے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کے ایم سی پہلے ہی اپنے بلوں میں میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اور ٹیکسز کی وصولی کیلئے کے الیکٹرک سے رابطے میں ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کیونکہ اسے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

درخواست گزار نجیب الدین نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت سندھ حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے کے ایم سی، ایم یو سی ٹی ٹیکس کی وصولی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلاجواز عمل ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ ہے۔