fbpx

سندھ حکومت نے پرانے منصوبوں پر نئی تاریخیں ڈال دی

‏رکن سندھ اسمبلی ‎عدیل احمد کا سندھ کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال.!

"سندھ حکومت کا 14واں ناکام بجٹ بھی ایک نیب زدہ سیکریٹری خزانہ سےبنوایا گیاجسے اس وقت جیل میں ہوناچاہئے تھا، سندھ کےوزیراعلی دراصل”زیرواعلی”ہیں۔

انہوں نے BBSYDP پروگرام کابہت ذکرکیا جو کہ ایک ناکام پروگرام ہے” ‏افسوس کی بات ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر شروع ہونے والے نوجوانوں کے منصوبوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے۔

افسوس اس بات کا بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کا چیرمین بھی ایک نوجوان ہے مگر انکی جماعت نوجوانوں کی پالیسیز کا یہ حال کر رہی ہے.‏ پاکستان کے 30 فیصد نوجوان نا تعلیم، نا کسی ہنر اور نا کسی نوکری میں ہیں۔

30 لاکھ لوگ کرونا کے باعث بے روزگار ہوۓ، 63 لاکھ لوگ سندھ میں غربت کی سطح سے نیچے آۓ ہیں۔

ہمیں بتایا جاۓ کہ ان بے روز گار نوجوانوں کے لئے سندھ حکومت کیا کر رہی ہے؟ ‏سندھ حکومت 63 لاکھ لوگوں کے لئے کیا کر رہی ہے جو غربت کی سطح سے نیچے آۓ ہیں ؟ سواۓ گدھے گننے کے

پیپلز پارٹی جمہوریت کا نام استعمال کرتی ہے، جمہوری اقدار سے نا بلد ہے۔

مجھے یہ یقین ہوگیا ہے کہ سندھ کا سپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ محض سیاسی بھرتیوں کے لئے رہ گیا ہے۔‏سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے 32 منصوبےایسے ہیں جو سالہاسال سےچلتے آرہے ہیں مکمل نہیں ہوپا رہے۔

سندھ حکومت نے پرانے منصوبوں پر نئی تاریخیں ڈال دی ہیں ۔ پرانے منصوبےنالائق سندھ حکومت سےمکمل ہو نہیں پا رہے اور 36 نئے منصوبے اعلان کر دیے۔

پہلے پرانے تو مکمل کر لیتے نالائق اعلی.‏سندھ حکومت کےمکمل کردہ اسپورٹس کےمنصوبوں کاحال دیکھناہے تو شاہ فیصل اسٹیڈیم کاحال دیکھ لیں جوکتوں کی آماجگاہ بن گیاہے۔

سندھ حکومت ایک منصوبہ لائی ہےنوجوانوں کا "یوکین” یعنی نوجواں خود کریں، "گورنمنٹ کین ناٹ” حکومت کے آسرے پر نہیں رہنا، نوجوان خود کریں جو کرنا ہے.‏مسلۂ یہ ہے کہ سندھ حکومت کے پاس نوجوانوں کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔

سندھ حکومت کو کامیاب جوان کے طرز پر وفاق سے سیکھ کر نوجوانوں کے لئے پالیسی لانی ہوگی

ہمارے زیرو اعلی صاحب نے 400 ارب مالیت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے منصوبوں کا ذکر کیا.‏پیپلز پارٹی کا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے منصوبوں کا ماضی بہت خراب ہے۔

1994 کے آئی پی پیز معاہدے ہوں یا 2008 کےرینٹل پاور پراجیکٹس انکا خمیازہ اس غریب عوام کوبھگتنا پڑ رہاہے۔

آج وزیر اعظم عمران خان کو انکے لگواۓجرمانوں کو معاف کروانا پڑ رہاہے.‏کار کے کی طرف سے 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ بھی پیپلز پارٹی کا دیا ہوا تحفہ تھا جسے وزیر اعظم عمران خان نے معاف کروایا ہے۔

اکنامسٹ انفرا سکوپ 2018 کی رپورٹ میں سندھ حکومت کے لئے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ سندھ حکومت *کنٹنجنٹ لائیبیلیٹیز* کو پوشیدہ رکھ رہی ہے.‏ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا منصوبہ پیپلز پارٹی کا نوری آباد پاور پلانٹ ہےجسکا پرائیوٹ پارٹنر اومنی گروپ ہے.

اسی نوری آباد پاور پلانٹ میں ہمارے وزیرِ اعلی صاحب نیب کو مطلوب ہیں یہ بھی ایک ناکام، نیب زدہ منصوبہ ہے۔

جو سندھ کی عوام کو بھگتنا پڑے گا.‏ہمیں یہ خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح پیپلز پارٹی کے یہ 400 ارب کے منصوبے بھی عوام پر بوجھ ثابت ہونگے۔2023 میں سندھ میں جب تحریک انصاف کی حکومت آئی گی تو یہ منصوبے ہمیں بھگتنے پڑیں گے.