fbpx

سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت

سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی ،عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے سے تازہ رپورٹ طلب کرلی۔سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ سندھ پیش ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افرادکی بازیابی کے لیےاقدامات کررہے ہیں، عدالت کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کے لیے فوکل پرسن کی تبدیلی کے لیے کیا کیا؟
سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سندھ کو مسنگ پرسنز کے لیے فوکل پرسن مقرر کردیا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ نئے فوکل پرسن پیش کیوں نہیں ہوئے؟ سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ چھٹیوں پر ہیں، پیر سے عدالت میں پیش ہوں گے،عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ نئےفوکل پرسن کو مکمل تیاری کے ساتھ عدالت بھیجیں،لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق وفاقی حکومت کی رپورٹ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا عدالت کاکہنا تھا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ سے ملک بھر میں قائم حراستی مراکز فہرست اور قید شہریوں کے نام طلب کیے تھے،پیش کی جانے والی رپورٹ حراستی مراکز کی نہیں ہے۔عدالت نے اعتراضات لگا کر رپورٹ اسسٹنٹ اٹارنی کو پیش کرنے کا حکم دیا،عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے سے تازہ رپورٹ طلب کرلی۔ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افرادکی بازیابی کے لیے اقدامات کررہےوہ پیر سے عدالت میں پیش ہوں گے، عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ نئے فوکل پرسن کو مکمل تیاری کے ساتھ عدالت بھیجیں،لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق وفاقی حکومت کی رپورٹ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا عدالت کاکہنا تھا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ سے ملک بھر میں قائم حراستی مراکز فہرست اور قید شہریوں کے نام طلب کیے تھے،پیش کی جانے والی رپورٹ حراستی مراکز کی نہیں ہے۔عدالت نےاعتراضات لگا کررپورٹ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو واپس کردی جبکہ غلط رپورٹ پیش کرنے پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پاکستان نے عدالت سے معافی مانگ لی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بار بار طلبی کے باوجود وفاقی سیکرٹری داخلہ کی جانب سے حراستی مراکز کی رپورٹ پیش نہیں کی جارہی،خاص طور پر خیبر پختونخواہ کے حراستی مراکز رپورٹ بالکل بھی پیش نہیں کی جارہی، عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے سے تازہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے لاپتا شہری اور دیگر کے موثر اقدامات کرنے کا حکم دیا عدالت نے آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر سے 6 مئی تک رپورٹ طلب کرلی۔ اٹارنی جنرل پاکستان نے عدالت سے معافی مانگ لی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.