سندھ ہائی کورٹ نےپائلٹوں کی تنخواہوں میں کٹوتی سے روک دیا،ذمہ داران کونوٹس جاری

کراچی :سندھ ہائی کورٹ نے پی آئی اے کے پائلٹوں کی تنخواہوں میں کٹوتی سے روک دیا،طلاعات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان ائرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے پی آئی اے کی انتظامیہ کی جانب سے سے دائرایک درخواست پرحکم دیتے ہوئے پی آئی اے انتظامیہ کوپائلٹوں کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے سے روک دیا ہے

 

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پائلٹوں کی تنظیم کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ‌میں‌درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے ملازمین کودی گئی مراعات واپس نہیں لے سکتے

 

 

اس درخواست میں پالپا کے کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ کو استدعا کی گئی تھی کہ پی آئی اے اوردیگر متعلقہ ادارے ایڈمن آرڈرنمبر 13/2020 اور 15/2020 کے ذریعے پائلٹس کی تنخواہوں میں مزید 25فیصد کٹوتی اور گارنٹی شدہ پروازوں کے گھنٹوں (فلائنگ آورز) میں کمی کرکے مراعات ختم کرنا چاہتے ہیں

 

 

اس درخواست میں کہا گیا ہےکہ یہ اقدام غیرقانونی ہے اور پہلے سے مروجہ قانون کے خلاف قراردیا ،

اس درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی آئی اے کا یہ فیصلہ اور پی آئی اے ایکٹ 2016 کیخلاورزی ہے ، اس درخواست میں ہائی کورٹ کوپائلٹس کی ڈیوٹی ٹائمنگ کوکم کرنے کے حوالے سے پی آئی اے کے نئے حکم کو بھی چیلنج کیا تھا ،

 

اس درخواست میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کارپوریشن ،فیڈریشن آف پاکستان اوروفاق کے وکیل ایئر کمانڈرعامر الطاف کو فریق بنایا گیا تھا ، اس درخواست پرسند ھ ہائی کورٹ نے حکم دیتے ہوئے ان تینوں فریقوں کو نوٹس جاری کیا ہے اورساتھ ہی یہ حکم دیا ہےکہ پی آئی آے انتظامیہ پی آئی اے کے قوانین کے مطابق دی گئی مراعات ختم نہیں کرسکتیں ،

ہائی کورٹ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہےکہ جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا نہ تو کسی پائلٹ کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاسکتا ہے اورنہ ہی ان کی مراعات میں کٹوتی کی جاسکتی ہے
ایسی کوئی بھی کوشش جرم تصور کیا جائے گا

 

 

عدالت نے پالپا کی طرف سے دائر درخواست پرپاکستان انٹرنیشنل ائئرلائنز کارپوریشن ، فیڈریشن آف پاکستان اوروفاق کے وکیل ایئرکمانڈرعامرالطاف کوجواب دینے کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے

 

 

یاد رہے کہ پالپا نے پی آئی اے کی طرف سے ان اقدامات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اوراقدام کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا ۔

پالپا نے انتظامی اور ایگزیکٹو پائلٹس کے طور پر خدمات انجام دینے والے اپنے اراکین سے استعفا دینے کی ہدایت کردی تھی ۔ پالپا کی جنرل باڈی کے اجلاس میں ایسوسی ایشن کے91اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایڈمن آرڈرز کیخلاف قرار داد بھی منظور کی گئی۔

 

 

ترجمان کے مطابق پی آئی اے کے جاری کردہ ایڈمن آرڈرز سے پائلٹس کے لیے کام کا ماحول غیر محفوظ ہوگا ،پالپا نے پی آئی اے کے ایڈمن آرڈرز کو عدالت میں چیلنج کرنے اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون بھی ترک کرنے کا فیصلہ کیاتھا ۔

 

 

پائلٹس ائرنیوی گیشن آرڈرز اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی وضع کردہ سیفٹی ریگولیشنز پر سختی سے عمل پیرا رہتے ہوئے پر امن احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رکھنے کا عہد بھی کیا تھا ۔اورکہا تھا کہ اگر پی آئی اے کے انتظامی اور ایگزیکٹیو پائلٹس ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا تو ان کا یہ اقدام پالپا کے آئین کی شق 3.3.2.1کے تحت مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا

تنظیم کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ سمجھا جائے گا کہ ایسے اراکین ایسوسی ایشن اور اپنے ساتھی پائلٹس کے مفادات کے برخلاف کام کررہے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر تمام انسٹرکٹرز اور اسٹینڈرڈ انسٹرکٹرز بھی رضاکارانہ طور پر اپنے نگراں امور کی انجام دہی ترک کردیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.