fbpx

سندھ کے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے، فاروق ستارنے کی سندھ حکومت کو تنبیہ

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ساڑھے 9 بجے کا وقت تھا، پرچہ وقت پر پہنچ جانا چاہیے تھا، صرف کراچی کی بات کررہا ہوں، سندھ اور اندرون سندھ وہاں تو سر اور پیر ہی نہیں ملے گا، آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، کراچی میں کئی امتحانی مراکزمیں ساڑھے 9 کی بجائے ساڑھے 11، ڈیڑھ اور2 بجے پرچہ پہنچایا گیا ہے، پرچہ لیک بھی ہوگیا تھا، یہ جو محنت کرنے والے بچےہیں، جو قابل ہیں، جو باصلاحیت بچے ہیں، ان کا حق مارکراپنے جو پسندیدہ بچے ہین ان کو نوازنے کیلئے پرچہ لیک کروایا جا رہا ہے، یہ کیسے امتحان ہورہے ہیں، کراچی کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا.
ایک بڑی وجہ حکومت سندھ اور وزیر تعلیم کی سرد مہری، دوسری جانب جو کنٹرولرامتحانات ہیں، میٹرک کا جو بورڈ عارضی ہے، ریٹائرڈ لوگوں کو بلا کرلگایا گیا ہے، پھرکیسے وقت پرکام کرسکیں گے، ساڑھے 3 لاکھ بچوں کا مستقبل فوری داؤ پرلگا دیا گیا ہے، آئندہ بھی یہی حالت رہی تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری قوم کا مستقبل کیا ہوگا.
کراچی کا میٹرک بورڈ کرچی کے بچوں کے ساتھ کررہا ہے، سندھ کی وزارت تعلیم کررہی ہے، تو پھراندرون سندھ میں کیا ہورہا ہوگا، اندرون سندھ کے بہت سے اساتذہ نے مجھے فون کیے ہیں، ان کا مزید دورگاؤں میں تبادلہ کر دیا ہے، خاص طورپرخاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مہاجروں کے ساتھ یہ ظلم اورزیادتی خاص طورپرہورہی ہے، اردو بولنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مہاجرین کو دور دراز کے علاقوں میں پھینکا جا رہا ہے، ان کی جگہ اندرون سندھ کے ملازمین کو لایا جا رہا ہے، یہ ظلم اورنا انصافی کی انتہا ہے.
حکومت سندھ اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو متنبہ کرتا ہوں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ہوا ہے، واٹربورڈ میں یہ ہورہا ہے، اب کے ایم سی اورڈی ایم سی میں ہورہا ہے، حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ہورہا ہے، یہ بڑے پیمانے پر ہورہا ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو دانستہ یا نا دانستہ نفرتوں کے بیج بوے جا رہے ہیں، جو بو گے وہی کاٹو گے.