fbpx

سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام تحریر: ام سلمیٰ

ہزاروں کی تعداد میں موجود سندھ کے سرکاری اسکول جن کا کوئی پرسان حال نہں ، سندھ کے سرکاری اسکو لوں کی کر کردگی مایوس کن نظر آتی ہے ، جس کی ایک اہم وجہ تدریسی عملے کی عدم موجودگی بھی ہے اور اساتذہ کا تعليمی معیار بھی جدید دور کے مطابق نہں ہے.

تعلیم کسی بھی فرد کے معاشرے کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور ایک اچھے معاشرے کا سبب بھی تعلیم کا معیار ہے ۔ کئی دہائیوں سے اگرچہ بنیادی طور پر سندھ میں تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بوسیدہ سرکاری اداروں کی وجہ سے سندھ کا نظام تعلیم ایک مایوس کن حالت سے گزر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی 1970 کی دہائی سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے ، لیکن انہوں نے صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے کئی سالوں سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں نظام تعلیم کی بہتری میں بہت رکاوٹیں ہیں.

ہزاروں کی تعداد سندھ کے سرکاری اسکول ایک مایوس کن کر گردگی دیکھا تے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول بھیجنے پے مجبور ہوجاتے ہیں ، زیادہ تر اسکول جس میں تدریسی عملے کی عدم دستیابی اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ، پینے کے پانی کا نہ ہونا اور بجلی جیسی مناسب بنیادی سہولیات کا فقدان ہونا ہے ، اور کھیل کے میدانوں یا لیبارٹریوں کی تو بات ہی نہ کریں کیوں کے وہ تو بلکل میسر نہں سرکاری اسکول میں جب کے اسکول بُنیادی درس گاہ ہے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

سندھ میں تقریبا لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا تناسب لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سندھ کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے میں صنفی فرق انتہائی واضح ہے۔ تاہم ہر سال اربوں روپے تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیے جاتے ہیں ، لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں استعمال ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ پرائیویٹ اسکول مافیا ہر سال اربوں روپے پیدا کررہا ہے لیکن بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور مناسب تعلیمی ماحول مہیا نہیں کررہا ہے۔ سندھ میں نجی اسکولوں کی بہت ساری عمارتیں 600 سے 700 فٹ سے زیادہ کی جگہوں پر واقع ہیں ، جہاں بچوں کے پاس کھیلوں کے میدان اور لیبارٹری نہیں ہیں۔جو کے بچوں کی بُنیادی ضرورت ہے.

نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لئے ، حکومت سندھ نے اسکول کے عملے کی موجودگی کی جانچ پڑتال کے لئے بائیو میٹرک تصدیقی نظام متعارف کرایا لیکن ہر کام توجہ مانگتا ہے نظام لگانا اور پھر اس کی مسلسل جانچ پڑتال کرتے رہنا کسی بھی کام میں بہتری لانے کا صحیح طریقہ ہے ،سندھ سرکار اس میں ناکام رہی۔ نظام کو چلانے کے لئے ، مانیٹرنگ آفیسرز کو بڑی تنخواہوں پر مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کی ذمہ داری صرف اساتذہ کی دستیابی کی تصدیق تک محدود ہے اور سب مانیٹرنگ افسران کو صورتحال کی اطلاع دینا لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نظر نہں آتا انتظامی سطح پر ، کوئی بھی خالی عہدوں ، غیر معیاری تدریسی طریقہ کار اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو خراب کرنے جیسے مسائلِ پر توجہ نہں دیتا اور نہ ہی ان مسائل کو ختم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا ہے۔ در حقیقت ، بایومیٹرک سسٹم کو شامل کرنے سے تعلیم کے معیار میں بہتری نہیں آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ہزاروں اساتذہ استعفی دے چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ کوئی نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ، اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ان مسائل کا فوری حل نہں نکالا گیا جس کی وجہ سے اسکول میں تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے.

اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں کے ناقص معیار کی وجہ سے ، والدین جو کے خود بھی انہی اسکول کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ سرکاری اسکول اساتذہ بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرایا ہے۔

اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں میں اوسطا ایک کلاس روم میں 200 طلبہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں معیاری تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے؟ وفاقی تعلیم کا اصول صرف 25 طلباء فی استاد ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز اور اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ بہت سارے اسکولوں میں ، ایک ہی استاد مختلف گریڈ میں طلبا کی دیکھ بھال کرتا ہے اور سات سے آٹھ مضامین پڑھاتا ہے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے والی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں دیانتداری و احساس کے ساتھ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نہں نبھاتی ہیں۔

سندھ میں نظام تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کی طویل مدت انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو تعلیمی اصلاحات کو ترجیح بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک یکساں نظام تعلیم ہو۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر محکمہ تعلیم مضبوط بنانا ہوگا۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اسکول اور والدین فاصلے کو ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی اور اسکول کے فنڈز کو دیانتداری سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی اسکول میں جو بنیادی ضرورت کی کمی ہے اس کو ان فنڈز کے صحیح استعمال سے میسر کیا جا سکے۔ بدعنوانی کیلئے صفر رواداری ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں سے اقربا پروری کا بھی خاتمہ کیا جانا چاہئے اور تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت کو بھی روکا جانا چاہئے۔

سب سے بڑھ کر اساتذہ کی کے تعلیمی معیار پر توجہ دینی ہوگی اِنکی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مناسب تربیت دے کر تدریسی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا تبھی سندھ کے تعلیمی نظام میں جنگی بنیادوں پر بہتری آسکے گی.

@umesalma_