fbpx

سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ نے سندھ حکومت کی نالائقی کو بےنقاب کردیا

سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ نے سندھ حکومت کی نالائقی کو بےنقاب کردیا ہے، پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار

سندھ حکومت ٹیکس ہدف مکمل کرنے میں ناکام رہی.سندھ حکومت نے این ایف سی کے حوالے جھوٹے بیانات جاری کیے.سندھ حکومت کے پاس پیسہ خرچ کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔

کراچی:پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار نے کہاکہ سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ سے سندھ حکومت کی کارکردگی واضح اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوچکا ہے ٹیکس کلیکشن ہویا پھرصوبے کی ترقی سندھ حکومت اپنی کارکردگی دکھانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے دستاویزات کے مطابق وفاق نے این ایف سی کی مد میں 9 ماہ میں509 ارب یعنی 66 فیصد سندھ حکومت کو دیدیا ہے جبکہ مجموعی این ایف سی رقم 700 ارب ہے دوسری جانب سندھ حکومت ٹیکس کلیکشن کے ہداف پورے نہ کرسکی سندھ حکوت نے صوبے بھر سے 47 فیصد ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ نان ٹیکس ریونیو 18 فیصد وصول کیا گیاجو کہ انتہائی حیران کن ہے 9 ماہ میں سندھ حکومت نے 2.9 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو کہ مجموعی رقم کا 10 فیصد بنتا ہے ، ایگریکلچر اور دیگر زرائع سے سندھ حکومت کا 3.874ارب ٹیکس جمع کرنے کاہدف تھا جس میں 484 ملین روپےٹیکس جمع ہوا جوکہ 12 فیصد بنتاہے،پراپرٹی ٹیکس کا ہدف 9ارب 37 کروڑ جو کہ96 کروڑ وصول کیے گئے جوکہ 10 فیصد بنتا ہے،بورڈ آف ریونیو 13 فیصد،ایگریکلچر 10 فیصد ، اریگیشن 27 فیصد ، جنگلات 11 فیصد ، انرجی ڈپارٹمنٹ 4 فیصد ٹیکس وصول کیا گیا یہ سندھ حکومت کی کارکردگی ہے جو ٹیکس اکھٹا کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار نے کہا کہ سندھ حکومت کے 9 ماہ کے اخراجات کے حوالے سے بات کیجائے 646 ارب ہے جس میں 570 کرنٹ ایکسپینڈیچر ہے حکومت چلانے کیلئے 560 ارب خرچ کیے گئے ترقیاتی اخراجات کی بات کریں تو سندھ حکومت کا ہدف235 ارب روپے تھا وہ 9 ماہ میں صرف 77 ارب روپے خرچ کیے یعنی سندھ کی ترقی کیلئے 31 فیصد بجٹ خرچ کیا گیا، نئی اسکیموں کیلئے 34 ارب مختص کیے گئے 9 ماہ میں نئی اسکیموں پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا جو ثابت کرتا ہے سندھ حکومت نااہل ہے بری طرح ناکام ہوگئی ہے بلال غفار نے مزید کہا کہ ہر بار سندھ حکومت کہتی ہے کہ وفاق نے این ایف سی کا شئیر کم دیا مگر یہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں وفاق کی جانب سے این ایف سی کی رقم پوری دی جارہی ہے تیسری سہہ ماہی رپورٹ واضح بتاتی ہے کہ سندھ حکومت کے پاس ساڑے 35 ارب روپے بیلنس میں موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے سندھ حکومت کے پاس وسائل ہیں مگر کوئی حکمت عملی نہیں سندھ حکومت کے پاس پیسہ خرچ کرنے کی اہلیت نہیں ہے بلال غفار نے مزید کہا کہ ہیلتھ کا بجٹ 31 ارب تھا جس میں ریلیز 7 ارب ہوا جبکہ خرچہ صرف 2 بلین کیا گیا جو کہ 7 فیصد ہے، اسی طرح دوسری جانب ٹرانسپورٹ کا بجٹ 17.7 ارب تھا ریلیز صرف 1.8 بلین ہوا اور خرچ صرف 7 کروڑ کیا گیا یعنی 3 فیصد صوبے کی ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا گیا یہی وجہ ہے کراچی جیسے میگا سٹی میں ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے بلال غفار نے کہا کہ پلینگ ڈپارٹمنٹ کا بجٹ 33 ارب ریلیز 10ارب ہوااور اب تک 4.9 ارب خرچ کیا گیا جو کہ 12 فیصد ہے ، لوکل گورنمنٹ 36 ارب مختص ریلیز 20 بلین اور 12 بلین خرچ کیے گئے تعجب ہے کہ جو اہم محکمے ہیں ان میں پیسہ خرچ نہیں کیا جارہا مگر ایریگیشن ، جنگلات میں سندھ حکومت نے اتنا پیسہ خرچ کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.