fbpx

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے التواء کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو چیف سیکرٹری سندھ یا وزیر اعلیٰ سندھ نے یا کسی اور ادارے کو کوئی خط نہیں لکھا کہ الیکشن کو آگے بڑھایا جائے یہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری ایک ویڈیو بیان میں کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا ہے اس کا الزام کچھ سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر لگا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سب کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اس کا خاتمہ ہوسکے۔

سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن اور بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کو جواز بنا کر انتخابات کو موخر کرنے کی جو درخواست دائر کی تھی اس میں بھی پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو درخواست جمع کروائی گئی تھی اس کے جواب میں سندھ حکومت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایک سلیکٹ کمیٹی سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کی بنائی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی شامل ہیں۔

اس سلیکٹ کمیٹی میں سوائے جماعت اسلامی کے تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم تک انتخابات موخر کرنے کا کہا اور پیپلز پارٹی نے بطور سندھ حکومت ان تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہائی کورٹ کے سامنے رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی مرتبہ میں نے، سید ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب اور دیگر نے بھی اپنی پریس کانفرنسز میں واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انتخابات کو آگے کرنے کی بات نہیں کی ہے اور آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے بعد صوبائی الیکشن کمیشن کا ایک خط سامنے آیا، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی چیف سیکرٹری سندھ، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز و دیگر سے مٹینگز ہوئی اور انہوں نے ان سے تفصیلات لی اور اس خط میں انہوں نے اپنے ڈسٹرکٹ کے فیلڈ آفیسرز کا بھی تذکرہ کیا ہے،۔ سعید غنی نے کہا کہ میری خود چیف سیکرٹری سندھ سے اس سلسلے میں بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کی صوبائی الیکشن کمیشن سے ریگولر مٹینگز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ الیکشن میں  الیکشن کمیشن ساری لاجسٹک اور سپورٹ  ایڈمنسٹریشن کو فراہم کرنی پڑتی ہے۔اس 15 جولائی کو چیف سیکرٹری کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ہونے والی مٹینگز میں بارشوں کے حوالے سے تو زیادہ بات نہیں ہوئی  تاہم 18 جولائی کے اجلاس میں بارشوں کا تذکورہ ضرور ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ ہمارے فیلڈ آفیسرز کی جانب سے جو رپورٹ ملی ہے، اس میں انہوں نے بارشوں کے باعث کچھ پولنگ اسٹیشن اور کچھ راستے خراب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں الیکشن کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس رپورٹ میں ڈی سی دادو کی رپورٹ کا ذکر ہوا تھا، جس میں انہوں نے 9 یوسیز میں الیکشن کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد بھی سیکرٹری الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمیشن کا رابطہ چیف سیکرٹری سندھ سے رہا، لیکن چیف سیکرٹری نے کسی اور قطعی طور پر ان سے یہ درخواست نہیں کی کہ انتخابات کو آگے کردیا جائے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ الیکشن کمشنر نے جاری خط میں خود اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے میٹ آفس سے موسم کی رپورٹ لی اور اپنے فیلڈ آفیسرز سے رپورٹ لی،متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے جو رپورٹ دی ان تمام کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ جو فیز ون ہوا ہے اس میں ہم نے تمام اضلاع میں کلین سوئپ کیا ہے  اور ان علاقوں اور شہروں میں بھی جہاں پیپلز پارٹی روائتی طور پر کمزوررہی ہے وہاں بھی ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکھر، نوابشاہ، میر پورخاص  کے شہری علاقوں میں کلین سوئپ کیا ہے اور اب فیز ٹو میں بھی اور جہاں انتخابات ہونا ہیں وہاں بھی حیدرآباد میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے، جس کے 25 سے زائد چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوچکیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک جماعت جو پہلا فیز کلین سوئپ اور دوسرا فیز بھی کامیابیوں کو سامنے دیکھ رہی ہو تو وہ کیوں انتخابات سے بھاگے گی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی 2015 کے مقابلے میں ہم اس سے بہتر پوزیشن میں ہیں اور ہم اس کے مقابلے کئی گنا زیادہ نشستیں جیت جانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاری بھرپور تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے کارکن اور امیدواروں میں انتخابات کے التواء سے مایوسی پھیلی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ ہم اس فیصلہ پر عدالت میں جائیں، جبکہ خود سلیکٹ کمیٹی میں پی ٹی آئی نے انتخابات کو موخر کرنے کا کہا تھا۔ اسی طرح ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور دوسری جماعتوں نے بھی انتخابات آگے کرنے کا کہا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے التواء کی وجوہات اپنے نوٹیفیکشن میں درج کردی ہیں، اب اس کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ انتخابات 24 جولائی کو ہی ہوتے تاہم اگر الیکشن کمیشن نے اس کو موخر کرکے آگے کیا ہے تو اس کا جواب وہ الیکشن کمیشن سے ہی لیں۔

سعید غنی نے کہا کہ نہ ہی چیف سیکرٹری سندھ نے، نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے الیکشن کمیشن کو کوئی خط نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کسی اور ادارے کو کہ انتخابات کو آگے کروا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوسرے فیز کو مکمل طور پر موخر کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے اور یہ پیپلز پارٹی کے حق میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ایک ماہ کی تاخیر سے امیدواروں پر مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کو مایوسی بھی ہوگی اور ووٹرز بھی اس فیصلے سے مایوس نظر آرہے ہیں۔