fbpx

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ،صورتحال کشیدہ ،دو افراد جاں بحق،کئی زخمی

سندھ میں جاری بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کئی مقامات پر صورتحال کشیدہ رہی ، تصادم میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ٹنڈوآدم کےتصادم میں ایک امیدوارکابھائی جاں بحق ہوا جب کہ سکھرمیں جاگیرانی برادری کے تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

پریزائیڈنگ آفيسر کے مطابق نواب شاہ میں سوشل سکیورٹی پولنگ اسٹیشن پرمشتعل افرادنے توڑپھوڑ کی، مسلح افراد نے عملے کو یرغمال بنایا اور الیکشن کاسامان لےکرفرارہوگئے۔ریجنل الیکشن کمشنرنوید عزیز کے مطابق واقعےپرایس ایس پی کو تحریری طور پر آگاہ کردیاگیاہے۔ایس ایس پی سعود مگسی نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور واقعے کا مقدمہ 15 نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب موروکی یوسی ڈیپارچہ کےمنگو خان ڈھرپولنگ اسٹیشن میں بھی تصادم ہوا۔
نوشہرو فیروز میں پولنگ کے دوران تصادم ہوا جس میں مخالفین نے ایک دوسرے پر لاٹھیاں برسائیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے جب کہ پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق سانگھڑ کے علاقے شہدادپور یوسی غلام حیدرباگرانی میں 2سیاسی جماعتوں میں جھگڑا ہوا جس کے باعث 4افراد زخمی ہوگئے، جھگڑے کے بعد پولنگ اسٹیشن 65 میں پولنگ روک دی گئی۔

اس کے علاوہ یوسی نمبر50،ہزارواہ پولنگ اسٹیشن کوٹ جھڑیو میں 2 سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں 8افراد زخمی ہوگئے۔ پڈعیدن میں یوسی بھانبھری پولنگ اسٹیشن جمن شاہ میں بھی جھگڑے کے باعث پولنگ کا عمل روکنا پڑا، ڈنڈے لگنے سے 2 افراد زخمی ہوگئے۔تھرپارکر کی تحصیل میں کلوئی پولنگ اسٹیشن اور پولنگ اسٹیٹشن پٹار پر دو امیدواروں کے حامیوں کے درمیان لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا جس سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔

جیکب آباد میں بھی یونین کونسل کندرانی کے پولنگ اسٹیشن 517 گلشیرکندرانی میں جھگڑا ہوا جس میں 2 امیدواروں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔ادھر کندھ کوٹ میں جے یو آئی کے میونسپل کمیٹی کے امیدوار شوکت ملک کی گاڑی پر مخالفین نے حملہ کردیا جس میں مخالفین نے ان کی گاڑی پر ڈنڈے برسائے جس سے گاڑی کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی۔ یہاں پولنگ کے عملے کے 7 افراد کو بھی اغوا کیا گیا۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے بے نظیر آباد میں تین پولنگ اسٹیشنز پر الیکشن مٹیریل چھینے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آر او ز کو فوری کارروائی کی ہدایت کردی۔

سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے تحت چودہ اضلاع میں پولنگ کا عمل جاری ہے جو شام پانچ بجے تک بغیر وقفہ جاری رہے گی۔بلدیاتی الیکشن کے دوران صوبے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی، پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ سمیت دیگر شہروں میں کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں، ایک کروڑ چودہ لاکھ چوہتر ہزار رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے سندھ کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے دوران بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے غلط نام یا نشان پرنٹ ہونے والے وارڈز میں پولنگ ملتوی کر دی۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق سندھ کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں چند وارڈز کے بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے نام یا نشان غلط پرنٹ ہوئے ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ان تمام وارڈز پر پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے، ان نشستوں پر دوبارہ الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن نیا شیڈول جاری کرے گا۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز پر غلط نام یا نشان شائع ہونے کی انکوائری کا بھی حکم دے دیا ہے۔

دوسری جانب جوائنٹ الیکشن کمشنر سندھ علی اصغر سیال نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ جہاں بیلٹ پیپرز پر امیدوار کا نام یا نشان غلط پرنٹ ہوا ہے وہاں الیکشن ملتوی کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔