fbpx

سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مین پولنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا تاہم کچھ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل معطل ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت 7 بجے تک بڑھا دیا تھا۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل آئے جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 14 ڈسٹرکٹ کونسلز کی نشستوں میں 7اضلاع میں پیپلزپارٹی واضح اکثریت کے ساتھ آگے ہے، پی پی مجموعی 2189 نشستوں کےساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جمیعت علما اسلام 64 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے 43 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی 13 امیدوار کامیاب ہوئے۔

 

سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

 

کشمورمین ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ نمبر 7 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار محراب علی مزاری 37 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جماعت اسلامی کے امیدوار عبید اللہ 18 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق ایس یو پی کے امیدوار 50 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی امیدوار زبیر احمد 49 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔کشمور ٹاؤن کے 11وارڈز میں سے 7 امیدوار پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بنا مقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔۔

کشمور ٹاؤن کے بقیہ 4 وارڈ ز پر بھی پی پی پی نے مکمل طور پر سوئیپ کرلیا۔۔گڈو ٹاؤن کے ایک وارڈ پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی، جبکہ ایک وارڈ پر جماعت اسلامی، 2وارڈز پر آزاد امیدوار غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پر کامیاب قرار پائے۔کشمورمیں بخشاپور ٹاؤن کے 3وارڈز پر تحریک انصاف کےرهنما میر غالب حسین ڈومکی کے بیٹے سالار خان ڈومکی ر غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے پرکامیاب قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف کشمور کے ضلعی صدر حنیف خان ڈومکی بھی وارڈ نمبر3سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے پر کامیاب قرار پائے.
ٹنڈو جان محمد کے 8 وارڈ میں پپلزپارٹی کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں.وارڈ نمبر 7: پی پی پی امیدوار شہزاد احمد 297 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،وارڈ نمبر 12 : پی پی پی پی کے امیدوار شہزاد حسین 505 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار راجیش کمار 185 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں، وارڈ نمبر 10 سے پی پی پی امیدوار محمد اسماعیل 325 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اللھ رکھیو 87 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر۔وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار صداقت ذوالفقار علی آرائیں 575ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پی پی پی امیدوار 551 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں.

الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

خیرپورٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جی ڈی اے امیدوار میر ڈنل تالپور 954 وقار لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید انوار علی شاہ 348 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی خیرپور کی وارڈ نمبر 15 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے غلام حسین مغل 1304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منصور اقبال شیخ 408 لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی وارڈ 17 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار اصغر شیخ 1149 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار مجید شیخ 356 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

شہداد کوٹ میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار طارق حسین بروہی 272 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار دلاور خان کھوسو 147 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

کندھ کوٹ میں جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین لاٹھیاں چل گئیں، تصادم کا واقعہ میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 10 میں پیش آیا جہاں لاٹھیاں لگنے سے 30 کارکن زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جھگڑے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا، ٹھل کی یوسی 28 پر پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے کارکنان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سات افراد زخمی اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔