سندھ میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ اور سخت حکومتی پابندیاں تحریر : نادر علی ڈنگراچ

0
56

ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے جان لیوا کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے عید سے پہلے ہی سندھ حکومت نے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے اور احکامات جاری کرنے کے باوجود عوام نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں سندھ کے شہر کراچی میں مثبت نتائج آنے والوں کی شرح 21.58 اور باقی ضلعوں مجموعی طور پر شرح 10.3 تک پہنچ گئی ہے. جس کے بعد سندھ حکومت نے پیر 26 جولائی سے مزارات , شادی ھال اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے. کراچی کی تاجر برادری نے ہفتے میں دو دن کاروبار بند رکھنے والی حکومتی پابندیوں کو رد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے.

سندھ میں کرونا کے کیسز میں خطرناک حد تک بڑھ جانے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام ایس او پیز پر سختی سے عمل نہیں کر رہی. اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عید والے دن کرونا ایس او پیز کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا. جس کی وجہ سے اس قاتل وائرس کو پھیلنے کے لئے سازگار ماحول مل گیا ۔ سندھ میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.3 ہے جو کہ بہت بڑی ہے. کراچی میں تو اس سے بھی زیادہ ہے اور وہاں پر کرونا وائرس کی خطرناک قسم "ڈیلٹا ویریئنٹ” کے سبب متاثرین کی بہت بڑی تعداد ہے. سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ ہوا تو اس وقت چین جیسا جدید ٹیکنالوجی والا ملک بھی اس وائرس کے سامنے بےبس نظر آیا اور وہاں پر وائرس کی وجہ سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا. پر کراچی کی آبادی ووہان سے دوگنی ہے. کرونا کی خطرناک قسم "ڈیلٹا ویریئنٹ ” کا سندھ بشمول کراچی میں پھیلنے کے خطرات زیادہ ہیں اگر اس پھیلاؤ میں تیزی آ جاتی ہے تو اس کو قابو میں لانا مشکل ہوجائے گا. سندھ میں پہلے ہی محکمہ صحت کی کارکردگی اچھی نہیں اس لئے سختی سے کام نہ لیا گیا تو بہت نقصان ہوگا اس وقت شہروں میں صفائی کے انتظامات بھی اچھے نہیں عید پر قربانی کرنے کی وجہ سے جانوروں کی آلائشیں بھی گلی محلوں میں پڑی ہیں جس کی وجہ سے گندگی میں اضافہ ہوا ہے. کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے اس لئے ضروری ہے سخت اقدامات اٹھائے جائیں. کراچی کی تاجر برادری نے حکومتی احکامات پر اعتراض کرتے ہوئے سخت احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے. پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کاروبار سے انسانی جانیں زیادہ ضروری ہیں. اگر پہلے ہی ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جاتا تو یہ صورتحال کبھی نہیں آتی. عید سے تھوڑا عرصہ پہلے اور عید کے دنوں میں جس طرح بازاروں, شاپنگ مالز, اور جس طرح ایس او پیز ( قربانی کے جانوروں کی منڈیوں میں) نظر انداز کیا گیا یہی نتیجہ تو نکلنا تھا. کیوں کہ لوگوں کی اکثریت نے نہ ماسک پہننا ضروری سمجھا اور نہ ہی سماجی مفاصلہ برقرار رکھا گیا. اس دوران سندھ انتظامیہ کا ایس او پیز پر عمل والا کردار انتہائی لا تعلقی والا رہا جو صورتحال کو مزید خراب کا سبب بنا.

سندھ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ والی صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر کراچی کی صورتحال بہت پریشان کن ہے. یہ صورتحال اس بات کی تقاضا کرتی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں. کراچی کی تاجر برادری کو بھی معاملے کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہیے. یہی تاجر برادری, شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹ والے اگر ایس او پیز پر عمل کو یقینی بنواتے تو صورتحال اس خطرناک حد تک نہ پہنچتی. مانتے ہیں کاروبار اہم ہے پر جب بات لوگوں کی زندگی پر آئے تو اس صورتحال میں لوگوں کی زندگیاں ضرور ہیں

@Nadir0fficial

Leave a reply