fbpx

‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہزیب

کائناتِ ارضی و سماوی کی تخلیق و حیران کر دینے والی ترتیب، خوبصورت و سر سبز لہلہاتی فصلوں اور کھیتیوں، گھنے اور قد آور درختوں سے مزین جنگلات، عقل و خرد اور دل و نگاہ کو مست و بےخود کر دینے والی سُریلی آبشاروں، روح وقلب کو تازگی بخشتے دریاؤں اور سمندروں، اسمان کوچھوتے سخت جان پہاڑوں، الگ الگ نوعیت کے رنگ و بو سے مزین خوشبودار پھولوں اورصحت افزا پھلوں، خوشوں والی کھجوروں اور بھوسے اور خوراک و معاشی ضروریات کی تکمیل کرنے والے اناج سے مزین یہ کائنات انسانی سوچ کی تمام حدوں سے ورا اُلوریٰ یقیناً اُس ذات کا بے حد و بے شمار شکر ادا کرنے کے لئے عظیم نشانیاں ہیں جِس نے انہیں حضرت انسان کے لئے انہیں پیدا فرمایا۔

یقیناً تمام کبریائی، بزرگی اورعظمت اُسی ذات کے شایانِ شان ہے جِس نے تمام آسمانی کرّے باہمی ترتیب و مطابقت کے ساتھ اس پیدا فرمائے کہ نہ ان میں کوئی جھول ہے نہ کوئی خامی، اور اسی ذات بزرگ و برتر نے آسمانِ دنیا کو روشن ستاروں اور سیّاروں سے روشن و آراستہ فرمایا۔ اس کائنات کا یہ نظام ودیعت اور تخلیق ذرا بھر بے ضابطگی اور عدمِ تناسب سے مکمل طور پر پاک و مبرا ہے اور اس طرح مرتب کہ ایک کا نظام دوسرے میں کسی طرح بھی مُدخل نہیں-

قرآن پاک اللہ تعالی کی تخلیق پر تمام معترضین نقادوں کو چیلنج کرتا ہوا فرماتا ہے :

’’الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳)ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴)
ترجمہ: کنزالایمان
جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ(خرابی وعیب) نظر آتا ہےپھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی‘‘
تفسیر:
اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار میں  سے یہ ہے کہ اس نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔ہر آسمان دوسرے کے اوپر کمان کی طرح ہے اور دنیا کا آسمان زمین کے اوپر گنبد کی طرح ہے اور ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے کئی سوبرس کی راہ ہے۔ تو اے بندے! تو اللّٰہ تعالیٰ کے بنانے میں  کوئی فرق اور کوئی عیب نہیں دیکھے گا بلکہ انہیں  مضبوط،درست،برابر اور مُتَناسِب پائے گا۔تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ تا کہ تو اپنی آنکھوں  سے اس خبر کے درست ہونے کو دیکھ لے اور تیرے دل میں  کوئی شبہ باقی نہ رہے،پھر دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔

اللہ پاک نے نہ صرف یہ کائنات اور اس میں موجود نظام تخلیق فرمایا بلکہ خود اس نظامِ بے مثال و باکمال کی حفاظت کاذمہ بھی لیا۔

کبھی غور تو کریں کہ اس نظام کی ترتیب کس قدر عقل و خرد کو لاچار کر دیا کرتی ہے۔
اس شمسی و قمری نظام و ترتیب میں سورج اور چاند مقررہ حساب و اوقات کے پابند ہیں جو منزلیں اور اوقات ان کیلئے مقرر ہیں نہ ان سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ روگردانی ، اپنے اپنے مدار میں مصروف و متحرک ہیں کیا مجال کہ سرسائی دائیں ہوں یا بائیں یا لمحہ بھر کی بھی تقدیم، تاخیر و سکونت ہو سکے۔

الغرض نظامِ ارض و سمٰوات میں جس جہت غور و تفکر کر لیں مکمل نظم و ضبط اور ترتیب و تکمیل پائی جاتی ہے، نظامِ قدرت کے اس توازن و ترتیب کی وجہ سے ہر شے مکمل افادیت اور حسن و تازگی کا منبع ہے-

جبتک یہ نظام اِسی ترتیب و توازن سے چلتا رہتا ہے انسان اِس کی افادیت سے مستفید و متنفع رہتا ہے لیکن ادھر انسان نے اس توازن و ترتیب کو زاتی مفاد کے لئے عدم توازن کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس کو دور رس منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا- یہ ہر ذی شعور و خرد پر مثلِ شمس واضح و عیاں ہے کہ تخلیقِ کائنات میں کوئی کمی، کوئی کجی، کوئی نقص وآلودگی کا شائبہ بھی نہیں –
تو پھر یہ جو آج کا انسان نواع و اقسام کی آلودگیوں و پیچیدگیوں کا شکار نظر آتا ہے یہ اس کی زاتی تخلیق شُدہ ہیں۔

بظاہر آج کے انسان نے مادی اشیا و صنعت میں فقیدالمثال ترقی کر لی ہے۔ ایجادات و تعمیرات میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی دریافت میں سرگرداں ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں نئے سے نئے تجربات و ریاضات کی کھوج میں ہے۔ لیکن اِسی کھوج اور طاقت ور بننے کے نشے میں بےشُمار ایسے عوامل و طریق میں کھو چکا ہے کہ وقتی مفاد کے لئے دورافتادہ نقصانات کو پرکھنے و ادراک کرنے سے عاری ہو چکا ہے۔ انسان کی اسی دھن کا شکار آج کا معاشرہ ہوتا جا رہا ہے۔

صنعتی و سائنسی ترقی کے نام پر جب انسان نے گیسی مادوں کی بڑے پیمانے پر ایجادات و استعمال کو اس کے دور رس مضمرات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے، مختلف الاقسام ایجادات، تحقیقات کے نام پر کیمیائی اور حیاتیاتی دریافتوں کے ذریعے ترقی حاصل کی- اِس ترقی کی راہ میں آنے والے نقصانات سے پیدا ہونے والے احتساب و سوالات سے مبرا و منزہ انسان جب اپنی دھن میں بھاگتا چلاگیا تو اسی ترقی کی وجہ سے قدرتی ماحول پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہونے لگے-
آج کے دور کا ہر ترقیاتی منصوبہ اس اجتماعی ماحول کو کسی نہ کسی طرح نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔
1880ء سے پہلے توکبھی کسی نے اس ماحولیاتی آلودگی پر کسی قسم کی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ لیکن اس صنعتی ترقی میں استعمال ہونے والی مادی گیسوں، کیمیائی و نباتاتی اشیاء و اجزا کے کثرتِ استعمال اور نئی ایجادات کے بنا پر پیدا ہونے والی اس
آلودگی کی پیمائش کی حساب و کتاب کرنے کے لئے پہلا ادارہ عمل میں لایا گیا۔
اس ادارے کی تحقیقات کے تحت اِن تمام استعمال شدہ عوامل کے پیشِ نظر فضا میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کی تحقیق کے مطابق سنہ 1880 سے سنہ 1980 تک اس درجہ حرارت میں 0.13 فارن ہیٹکے حساب سے ہر دس سال میں اضافہ ہوا ہے۔
1981 کے بعد اس میں 0.32 ڈگری فارن ہیٹ/10سال کے حساب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق اِس طویل عرصہ میں 2019 ایسا سال تھا جِس میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
تحقیقاتی ادارے کو یہ کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ماحولیاتی الودگی میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند سالوں کے بعد یہ اس کے باعث سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقےزیر آب آنے کےخطرے سے دوچار ہیں۔
اِسی درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشئیرز پگلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور بارشوں کے سلسلے متاثر ہونے اور غیر متوقع طوفانوں کی تباہی کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

اس موسمی تبدیلی کے پیشِ نظر مجبوری ہجرت،انواع القسام بیماریوں، قلتِ اجناس، جنگلی حیات کا ناپید ہونا، پانی کی قلت اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل کا سامنا ناگزیر ہے-

اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت انسانی جان کی بقاء کو اِس ماحولیاتی آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔
اس پر تو کوئی دوسری رائے نہی ہو سکتی کہ روئے زمین پر تمام جانداروں اور بالخصوص انسانی جان کے تحفظ کا انحصار جن ضروریاتِ حیات پر کیاجا سکتا ہے ان میں سےایک پاک و شفاف ماحول و ہوا ہے- اس اہم اور حساس معاملے پر ادراک و فہم ہر ذی شعور کو جاننا اور اِن مضمرات کی روک تھام کے لئے اُن عوامل کو کارفرما لانا انتہائی ضروری ہے جِس سے ماحول آلودہ ہونے سے بچ سکے کیونکہ اس کا بالواسطہ تعلق انسانی حیات سے ہے۔
اس ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کا اندازہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جِس کے مطابق دنیا میں 70 لاکھ لوگ ہوائی آلدگی اور آکسیجن کی کمی کیوجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔

جیسا کہ شروع میںذکر ہوا کہ اللہ کا نظام ایک اکمل واعلٰی اور ہر نقص و کمی سے پاک نظام ہے۔ اسی نظام میں ہر مسئلے کا حل اور تدارک رکھا گیا ہے۔ دین اسلام جہاں دیگر مسائل کے متعلق راہنما و پیشوا ہے وہاں ہر ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بھی ایک آفاقی نقطۂ نظر رکھتا ہے-
ماحولیاتی نقصان و فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اسلام میں واضح احکام کے ذریعے صفائی اور شجر کاری کے فوائد ذکر کیے ہیں قرآن پاک میں کھیتی باڑی اور پودوں کا نقصان پہنچانا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے۔

اسلام میں بلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے- حتیٰ کہ جنگ میں روانگی کے وقت فوجوں کو اس بات کی باقاعدہ ہدایت کی جاتی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہی کریں گے-
حضور نبی اکرم (ﷺ) نے شجر کاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا:
“ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو‘‘
لہٰذا ہمیں بطور مسلمان اِن اسلامی تعلیمات و تربیت کی روشنی میں اپنے گردونواع کے ماحول و فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنا ہے۔ اور اپنی آنےوالی نسلوں کو اس آلودگی کے نقصانات سے بچانے کے لئے ایسے اقدام کرنے ہوں گے جِن کے ثمرات کے نتیجہ میں وہ ایک صحت مند اور توانا زندگی گزار سکیں۔
ہر فرد معاشرے کا حصہ اور اہم اکائی ہے۔ مختلف اکائیوں کے اجتماع کو معاشرہ کہتے ہیں۔ جب تمام اکائیاں اپنے مثبت کردار کو جمع کرتی ہیں تو ہی صحت مند معاشرہ وجود پا سکتا ہے۔
آئیے سب ملکر اس معاشرے کی فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنااپنا کردار ادا کریں۔
جتنا ممکن ہو اپنے گردو نواع میں صفائی ستھرائی رکھنے، پانی کے ضیاع سے بچنے، غلاظت اور گندگی کوپھیلاؤ کے تدارک کاذریعہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ شجر کاری کےذریعے ماحول کو ہرا بھرا اور سر سبز و شاداب بنا دیں اِنࣿ شَاءاَللٰؔه
تحریر: شاہزیب