fbpx

سراج درانی کیس، دستاویزات جمع کروانے پر ملزمان کے وکیل کا اعتراض

سراج درانی کیس، دستاویزات جمع کروانے پر ملزمان کے وکیل کا اعتراض

احتساب عدالت کراچی میں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 9 اگست تک ملتوی کر دی گئی

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سمیت دیگراحتساب عدالت میں پیش ہوئے نیب کے گواہ اظہر حسین بھی احتساب عدالت کراچی میں پیش ہوئے گواہ کی جانب سے دستاویزات جمع کروانے پر ملزمان کے وکیل نے اعتراض کیا .وکیل نے کہا کہ نیب کی جانب سے پیش کیا جانے والا گواہ الیکشن کمیشن کا مجاز نہیں ہے احتساب عدالت کراچی نے وکلا کےاعتراض پر حکم محفوظ کرلیا

درخواست گزار ملزمان نے نیب کے نئے کال اپ نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب ریفرنس دائر کرچکا ہے مزید انکوائری نہیں کرسکتا ہے

آغا سراج درانی کے خلاف پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم

سراج درانی کے خلاف کیس کی سماعت،کتنے ملزمان کے شناختی کارڈ ہوئے بلاک

نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آغا سراج درانی نے 1 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنائے جن میں سے انہوں نے کچھ جائیدادیں فروخت بھی کردیں اسپیکر سندھ اسمبلی کے غیر قانونی اثاثہ جات میں گھر اور35 گاڑیاں شامل ہیں اور دیگر اثاثوں میں 11 گاڑیاں ، بیٹے کے بنام اور اہلیہ اور بیٹوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیداد شامل ہیں، مذکورہ جائیدادوں کی خریداری کیلئے رقم کی ادائیگی ان کے ملازمین کے نام سے کی گئی ہے۔ نیب کی طرف سے مارے گئے چھاپے کے دوران مرکزی ملزم اور ان کے دیگر اہلخانہ سے 11کروڑ روپے کی قیمتی گھڑیاں برآمد ہوئیں اور ان کے لاکر سے 350 تولے سونا بھی برآمد کیا گیا جبکہ نیب کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے سال 2007ء سے سال 2018ء تک 11 کروڑ روپے آمدن ظاہر کی جو کہ زرعی زمنیوں کی بتائی گئی تاہم دوران تفتیش ملزم نے آمدنی 8 کروڑ بتائی تھی۔