fbpx

عنوان : صرف 30 سال اور ہم تحریر: سہیل احمد چوہدری

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بس 30 سال پیچھے کا چکر لگائیں
زندگی کتنی خوش و خرم گزر رہی تھی چھوٹے بڑے اپنے دائرے میں رہ کر چل رہے تھے.ادب و احترام کا انحصار تربیت پر سوال اٹھانے سے بچاتا تھا.علاقےیں کچھ ایسی بیٹھک بھی ہوا کرتیں تھیں جہاں مسائل کو پولیس اسٹیشن تک جانے نہیں دیا جاتا تھا.لوگ بخوشی.اطمعنان سکون سے گھروں کے دروازے کھلے رکھنے رکھ کر تسلی محسوس کیا کرتے تھے.اگر کوئی بزرگ کسی کو ڈانٹتا تو اپنائیت کا احساس اجاگر ہوتا .گھر سے ماں کی گود کو پہلی درسگاہ تصور کیا جاتا تھا.اردو کی بجائے پنجابی کو فرض سمجھا جاتا تھا.بچوں کے سامنے رکھی اشیاء بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی اجازت نہیں دیتیں تھیں. اچھے برے کی تمیز پر ہر کوئی زور دیتا. خواہشات میں اہم چیز حق حلال کی روزی اور اولاد کو نیک انسان بنانے پر فوکس کیا جاتا تھا.محنت چاہے پڑھائی میں ہو یاں کام میں .بھرپور پذیرائی ملتی تھی.بزرگوں کے جیون ساتھی کے ساتھ ساتھ انکے جہیز کا سامان بھی آخر تک چلتا.رشتوں میں منافقت اور اشیاء میں ملاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی .کم سے کم اولاد کی تعداد 7 تو ہوتی ہی تھی.ایک ماں نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام تو الگ بچوں کو برابر ٹائم بھی دیتیں تھیں.اکیلا باپ 8 , 8 بچوں کیلیے اکیلا کافی تھا.اللہ کی شکر گزاری پر بار بار زور دیا جاتا تھا.بچے بوڑھے ہونے پر بھی ماں باپ کی آواز سے تجاوز ناں کرتے تھے.گھر کی بہو سسرال سے اپنی میت اٹھوانا پسند کرتیں تھیں .گھر کے مسئلے مسائل پر پردہ ڈال کر مرد تک بات نہیں جانے دیا کرتیں تھیں.علیحدگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی.ٹرالی والے ٹیلیوزن اور گھر کے دروازے رات 8 بجے پی ٹی وی کے ڈرامے سے شروع ہوکر 9.30 بجے کے خبر نامے کے اختتام کے ساتھ بند کر دیئے جاتے.بچوں کو ٹی وی سے اتنے فاصلے پر بیٹھنے کا حکم تھا جیسے آجکل کورونا کے دوران سماجی فاصلے پر زور دیا جاتا یے.بہو کو بیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا..داماد کو بیٹا تصور کیا جاتا تھا پرائیویٹ سکول نہ ہونے کے برابر تھے.سرکاری سکول میں کلاس کے نالائق سٹوڈنٹس بھی اساتذہ کے آگے سر نہ اٹھاتے تھے. اساتذہ گھڑی کو دیکھنے کی بجائے شاگردوں کے متعلق زیادہ سوچتے تھے اور نالائق شاگردوں پر زیادہ فوکس کرنا اپنی زمہ داری سمجھتے تھے.
کل ملا کر بہترین انسان بنا کر روزگار کیلیے مارکیٹ میں بھیجا جاتا تھا.
انکی مثبت سوچ اور رویہ سے ان کی تربیت اور افکار کا پتا چلتا تھا.کم تعلیم یافتہ والدین نے بہترین آفیسرز پیدا کیے.
ہر بندہ اپنی جگہ پر ایسے براجمان ہو کر زمہ داری نبھاتا تھا جیسے جانور اور چرند پرند اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں.
کھلے مکان .اونچی چھتوں والے کھلے کلاس روم.مٹی کی دیواریں وہ بھی 22 انچ تک چوڑی.گلیوں میں سولنگ.سنگل اسٹوری مکان .شرم و حیاء.ماں باپ اساتذہ کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی لیکچر اور مثالوں کی بھرمار نے صحت مند مثبت دماغ والے انسان پیدا کیے.مہنگائی نام کو دشمن تصور کیا جاتا تھا
اب آتے ہیں 2000 کے دور میں جس میں ہم ایٹمی طاقت .جدید جنگی سامان .بہترین ٹیکنالوجی.
پر سبقت لے گئے.اور خود کو بیرونی طاقتوں کے آگے مضبوط پیش کیا.
پر ایک چیز جو جوں کی توں ہے وہ بیرونی قرضہ جات.خیر اس جو تو رجگتے ہی الگ ہیں جس پر دو رائے نہیں.
کیا کھویا کیا پایا.
1-اردو اسپیکنگ مائیں پر بچوں میں انسانیت کا فقدان
2- ایجوکیٹڈ والدین پر اولاد معاشی بے راہ روی کا شکار
3- ٹی وی .ریموٹ ہر ایک کی دسترس میں پر توجہ کا مرکز بےہودہ اور نان سیئریس وقت کا ضیاع
4- موبائل .موٹر سائیکل وقت کی ضرورت پر مقاصد آوارہ گردی
5- مہنگے پرائیویٹ اسکول, اسٹوڈنٹ کی تعداد بھی مختصر پر فیسوں کا بوجھ اور پڑھائی اور ڈگری برائے نام
6- سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور جرائم کا بڑھنا
انسانیت پر سے یقین کا خاتمہ خوف کا چورن سرعام بکنا.
7-انصاف کے اداروں میں انصاف کی دھجیاں سر عام
دو قانون .غریب کیلیے الگ امیر کیلیے الگ. ناامیدی
8-عورت کا بے جا بوجھ مرد پر
سورس کوئی بھی ہو
مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا.
9- ہر ایک کی جیب میں اپنے مسلک کا فتوئ
10- بناوٹی سوچ . ہر حال ہر قیمت پر آگے نکلنے کی سوچ
11- صبر .توکل.توبہ سے دوری وغیرہ وغیرہ
12- چھوٹے بڑے کا ادب ممنوع.
اپنے بچوں کو دوسروں پر فوقیت کی فکر
اتنی بے فکری میں تو جانور بھی بچے نہیں پالتے شاید .جتنے ہم بے فکر ہو گئے ہیں
13- ہٹلر نے کہا تھا
اچھی مائیں دو اچھا معاشرہ لے لو .
14- حلال حرام سے زیادہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور.
15- بے شمار پیسا ہونے کے باوجود اںسانیت کا فقدان
سارا قصور ریاست کا نہیں
کچھ ہمارا بھی فرض بنتا ہے
مرد کا کام بہتر رزق حلال کما کر گھر کو اسپورٹ کرنا ہے
ماں کا کیا کام ہے شاید اس پر سوال بنتا ہے
کیونکہ مولانق طارق جمیل صاحب نے کیا خوب کہا تھ کہ صبح صبح مائیں بچوں کو اپنی جان چھڑانے کیلیے اسکول بھیج دیتی ہیں اسکول میں بچوں کو کارٹون دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچے کا دل اسکول میں لگے اور ماوں کی مجبوری کے ساتھ اسکول مافیا کا وظیفہ لگا رہے.
باقی بچے گھر پر ہیں اور فیسیں آسمان پر .
جب بچہ گھر آتا ہے تو موبائل یاں ٹی وی دیجھتا یے تو اسے والدین بھی کارٹون نظر آتے ہیں
ہمیں مل کر اس نظام کو بدلنا ہوگا
ہم نہیں بدلیں گے تو جیسے 30 سال پہلے کی محنت کو چںد سالوں نے بدل کر درہم برہم کر دیا کسی ناں جسی کو تو شروعات کرنا ہو گی.
خود کو بدلیں .جیسے چین نے صرف 30 سالوں میں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم ثابت کر دکھایا.
خدارا آپس کی منافقت سے نکلیں اور پچھلے 30 سال کو مثال بنا کر اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں .
کسی کے چہرے کو سرخ دیکھ کر اپنے منہ کو ٹھپڑ مار کر لال کرنے سے گریز کریں.
اپنے لال کی فکر کریں دوسروں کی گال کو چھوڑیں .