fbpx

صرف عنواں تھے اصل داستاں تم ہو تحریر: تماضر خنساء

آزادی کی جلتی چنگاری اب بھی مدھم نہیں ہوگی.. ولولہ اور جوش وہی رہے گا جو سید صاحب نے اس نسل کو دیا ہے… سید صاحب خود تو چلے گئےمگر اپنے پیچھے آزادی کی بے شمار شمعیں روشن کر گئے ہیں… جن سے مقبوضہ کشمیر ہمیشہ روشن رہے گا….
ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تعلق رکھنے والے سید علی گیلانی بھارتی جارحیت کے خلاف ایک توانا آواز تھے…اعلی تعلیم انہوں نے لاہور سے حاصل کی… کئ کتابیں بھی لکھیں جن میں مشہور کتاب "روداد قفس ” جو انہوں نے قیدو بند کے دوران لکھی… فارسی اور اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے صحافت اختیار کرلی… 1950 میں  انہوں نے سیاست کے میدان میں  قدم رکھا تو مودودی افکار سے بے حد متاثر ہونے کے باعث جماعت اسلامی کو ہی چنا…
پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی کے موقع پر انکو انکی استقامت اور ہمت کی بدولت ” نشان پاکستان ” کا اعزازبھی ملا…
سید صاحب نے اپنی زندگی کے بیشتر سال قید و بند میں گزارے جس کی وجہ سے دل اور گردے کے عارضے لاحق ہوئے مگر اس سب کے باوجود ایک لمحے کیلیے بھی ہمت و جرات کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ڈٹے رہے اور قابض  بھارت سرکار کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر اپنی آزادی کیلیے آواز بلند کرتے رہے …پاکستان سے محبت کو ایمان کا بنیادی حصہ شمار کرتے تھے اور یہی تو انکا جرم تھا کہ وہ دل سے پاکستانی تھے…
جب انکو اندازہ ہوگیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پہ قابض رہنے کی ٹھان چکا ہے مذاکرات تو محض دکھاوے کا ڈھونگ ہے تو انہوں نے کشمیر کی روایتی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی …1989 میں سیاست سے دوری اختیار کرلینے کے بعد بھی اپنے خیالات کا اظہار ببانگ دہل کیا کرتے تھے اور آزادی کے پروانوں کیلیے مشعل راہ بنے رہے… جہاں جہاں ممکن ہوسکا انہوں نے حق کا ساتھ دیا حق کیلیے بولا…
بانوے سال کی عمر میں بھی قیدوبند اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں مگر پھر بھی ڈٹے رہے آواز، نحیف مگر لہجہ وہی اٹل رہا …وہ وفا نبھاتے رہے اور آزادی کی جنگ میں کبھی پیچھے نہ ہٹے
قابض حکومت کے سامنے ڈٹے رہے مگر کوئ انکو گرا نہ سکا….. اپنے اس بات پہ کہ ” ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے پورا اترے اور پاکستان سے وفا نبھا چلے…
انکے آنکھوں نے نہ جانے کتنے آزادی کے متوالوں کے جنازے دیکھے… دنیا نے بھارت کی انسانیت سوزی بھی دیکھی کہ جس کو وہ چپ نہ کراسکے اسکو ہمیشہ کیلیے نظر بند کردیا گیا… صرف یہی نہیں اس مرد مجاہد کے لاشے سے بھی وہ بزدل اتنے خوفزدہ تھے کہ رات کے اندھیرے میں انکودفنادیا گیا انکے گھر والوں کو بھی ان تک پہنچنے نہیں دیا….
جس انسان کے جنازے سے دشمن اتنے خوفزدہ ہوں تو اسکی زندگی نے ان بزدلوں کو کتنا ڈرایا ہوگا…
رات کے اندھیرے میں دفنادینے سے بھی انکا جلایا گیا آزادی کا شعلہ بجھے گا نہیں ” اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبائیں گے
پاکستان سے محبت کا عالم تو دیکھیے کہ وفات سے قبل وصیت کرگئے کہ میرا جسد خاکی پاکستان کے پرچم میں لپیٹا جائےاور کہتے تھے کہ
جب قدرت کی رحمت سے ہم دریائے جہلم کی اُچھلتی اور اٹھلاتی لہروں کی طرح پاکستان کے وجود کے ساتھ ہم آغوش ہوجائیں تو ہماری قبروں پر آکر ہمیں یہ روح پرور خوش خبری سنا دینا تاکہ عالم بزرخ میں ہماری ارواح سکون و طمانیت سے ہمکنار ہوجائیں۔
… اس میں کوئ شک نہیں کہ وہ پکے سچے پاکستانی تھے جو ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے…
جب تک زندہ رہے تب بھی بھارتی قابض بزدلوں پہ دہشت طاری رہی اور مرنے کے بعد بھی خوف میں مبتلا کیے رکھا
وہ کردار کے غازی تھے … آج ہم اس مرد مجاہد سے شرمندہ ہیں کہ ہم انکے لیے کچھ نہ کرسکے اور وہ آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے ہی رخصت ہوگئے مگر یقین رکھیں ان کا یہ خواب بہت جلد پورا ہوگا اور وہ آسمانوں پر خوشیاں منائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم بھی اپنا سر اوپر اٹھاسکیں گے….
انکی وفات پہ پاکستان بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئ ،پاکستان کا پرچم سرنگوں رہا …پورا پاکستان سوگوار رہا کہ ہم نے اپنا قیمتی اثاثہ آزادی کی اس راہ میں کھودیا ..
دعا ہے کہ رب ذوالجلال انکا آزادی کا یہ خواب جلد پورا کردیں اور انکی لحد پہ جا کر یہ خوشخبری سناسکیں کہ آپ کا کشمیر آج آزاد ہے اور پاکستان کا ہے 🇵🇰
آخر میں سید صاحب کے نام ایک شعر :
میر کارواں ہم تھے روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے اصل داستاں تم ہو 🇵🇰
@timazer_K

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!