fbpx

صرف خواب نہ دکھائیں… تحریر جام محمد ماجد

مملکت خداداد
پاکستان کو ایک عظیم فلاحی اسلامی ملک بننا تھا لیکن یہاں جو بھی حکمران برسراقتدار آیا اسلام بیزار اور امریکہ اور یورپ کا وفادار طبقہ ہی مسلط رہا جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہا یہ مذہب بیزار طبقہ جن کا مفاد امریکی غلامی سے وابستہ رہا اس لئے کسی بھی حکمران نے کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی کیوں کے پاکستان کو قائم ہوے ستر سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن عوام کی حالت جوں کی توں ہی ہے کیوں کے آج تک کسی حکمران یا پارٹی نے کبھی سنجیدہ ہو کے عوام کے بارے میں اصلاحاتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی جس وجہ سے پاکستانی قوم کو جو بھی حکمران آتا ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتا اور محرومی کی چکی میں پسی عوام پھر سے اسی امید پر سہانے خواب سجا لیتی کیوں کے یہاں یہ رواج عام ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ عوام کو سنہرے خواب ضرور دکھائے جاتے ہیں جن پر یہ بھولی بھالی عوام گزشتہ ستر سال سے یقین کرتی چلی آرہی ہے لیکن بد قسمتی سے خواب ہیں جو پورے ہی نہیں ہو رہے خوابوں کی تعبیر کے پیچھے بھاگتی بھاگتی جب پاکستانی عوام اپنا سفر طے کرکے مطلوبہ مقام پر پہنچتی ہے تو اسے یہ دیکھ کر شدید حیرانی اور پریشانی ہوتی ہے کہ وہ جسے منزل مقصود کا آب حیات سمجھ رہی تھی وہ تو دراصل ریت پر مشتمل ایک ریگستان ہے جسے سراب کہہ سکتے ہیں۔
ستر سالوں سے منز ل مقصود کی متلاشی پاکستانی قوم کسی رہبر کی تلاش میں ادھر ادھر سرگرداں نظر آتی ہے لیکن طویل تر سفر کے باوجود وہ بالآخر نقطہ آغاز پر واپس پہنچ جاتی ہے گول دائرے میں ایک عرصے سے جاری ہماری قوم کایہ سفر صفر سے شروع ہو کر بالآخر صفر پر ہی پہنچ جاتا ہے اور حکمران عوام کو ایک اور خواب کے پیچھے لگا دیتے ہیں جس کی منزل ہی نہیں ہوتی خدا جانے ہم کب تک اس سراب کے پیچھے بھاگتے اور اپنے لیڈروں سے دھوکا کھاتے رہیں گے؟میرا خیال ہے کہ جب تک کرپشن اور پیسے کی بنیاد پر استوار اسلامی جمہوریہ پاکستان کا موجودہ گلا سڑا اور بد بو دار نظام تبدیل نہیں ہوتا اور ایک فلاحی اسلامی نظام جب تک رائج نہیں ہوتا پاکستان جو کے اسلام کا قلعہ ہے تھا اور رہے گا حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا کیوں کے اسلامی نظام ہی وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں پاکستان کی ترقی اور بقا وابستہ ہے کیوں کے ایک اسلامی نظام اور معاشرا ہی واحد حل ہے اور جب تک مساوات پر لوگوں کو انصاف اور حق نہیں ملتا وطن عزیز حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔
اس کے لئے ضروری ہے کے پاکستان کو قائد اور اقبال کے نظریہ فلسفہ اور سوچ کے مطابق ڈھالا جائے حقیقی فلاحی اسلامی مملکت بنایا جائے کے جس میں سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوں اور سب شہری آزادی سے چاہے وہ کسی بھی رنگ نسل اور مذہب کا ہو بے خوف و خطر زندگی گزار سکیں
پاکستان زندہ باد ہمیشہ پائندہ باد…
کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں ….
@Majidjampti