ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض تحریر:انجینئرمحمد ابرار

ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض
انجینئر محمد ابرار

آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا.اسکے گال تھپڑوں سے سرُخ ہو چکے تھے. شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی.امی میں کھیلنا چاہتا ہوں. شاید یہ ایک جملہ قتلِ ناحق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا. چناچہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا.
عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی اسکے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی. عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی. دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوبصوت بچہ ہے. بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اسکی مرحم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رُکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے تمام آزمائے گئے مگر یے خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا. غریب مرتے کیا نہ کرتے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ختنے ٹھیک نہیں ہوئے. سارا خاندان اس کمپوڈر کو کوسنے اور لعنت طعن کرنے لگ گیا. خون کی ایک بوتل لگنے کے بعد خون تھم گیا اور گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا. تین ماہ گزرنے کے بعد عمار چارپائی سے گزا اور ماتھے پر چوٹ لگ گئ پھر مرہم پٹی کروائی مگر خون ایک بار پھر تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.
اسی اثناء میں محلے کی چاچی بلقیس بیگم نے کہا کہ "میں تو کہتی ہوں اسے سول ہسپتال لے کر جاؤ وہاں سیانے ڈاکٹر ہوتے ہیں شاید اس کا کوئی علاج نکل آئے”.
عمار کو صبح صادق کے وقت سول ہسپتال لے جایا گیا. خدا خدا کر کہ بڑے ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی اور انہوں نے عمار کا چیک اپ گیا.ڈاکٹر صاحب نے پی ٹی، اے پی ٹی ٹی اور سی بی سی ٹیسٹ لکھ کر دیے. جب لیب سے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ ڈاکٹر صاحب کو دکھائی گئی تو معلوم ہوا کہ عمار کو ہیموفیلیا جیسا مہلق مرض لاحق ہے اور اس کے جسم بھی قدرتی طور پر فیکٹر 9 کی کمی یے.ڈاکٹر صاحب نے عمار کے والدین کو بتایا کہ ہیموفیلیا ایک وراثتی بیماری یے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا افراد کے جسم میں خون جمانے والے اجزاء کی کمی ہوتی ہے جنہیں فیکٹرز کہتے ہیں. اسی کمی کی وجہ سے ختنے کروانے کے بعد اور حالیہ چوٹ لگنے کے بعد عماد کا خون بند نہیں ہوا تھا.
عمار کے والد محمد ارسلان کو سعودی عرب سے ورکنگ ویزا مل گیا اور وہ سعودی عرب چلا گیا بعدازاں ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اکامہ نہ لگوانے کی باداش میں گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہے. عمار کی ماں چِٹی ان پڑھ ہے اور عمار کو فقط چوٹ لگنے کے ڈر سے دوسرے بچوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے.والد کا جیل میں ہونا ماں کے سٹریس کا باعث ہے مگر جب بھی عمار کھیل کود کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے آگے سے خوب لتریشن اور تھپروں کا سامنا کرنا پڑتا یے جس کی وجہ سے عمار میں ایک وحشی پن موجود ہے. اسکی زبان گُنگ ہو گی ہے اور وہ بولنے کی بجائے بات کا جواب مُکے اور تھپڑ سے دیتا یے.
عمار اور اس سے اور بچے جو ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں وہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں.والدین کی کونسلنگ اشد ضروری ہے تا کہ وہ ان پچوں کو چوٹ لگنے سے بچانے کی خاطر تشدد کا نشانہ نہ بنائیں انہیں انڈور گیمز کا بتائیں.سکولوں پرنسپلز ان بچوں کا داخلہ کرنے سے گھبراتے دکھائی دیتے ہیں.استاذہ کو اس بابت آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں سپیشل بچے کے طور پر ٹریٹ کیا جائے اور ان سے مار پیٹ جیسے رویے سے اجتناب کیا جائے.یہ بچے صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ہماری ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہوں گے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.