شوگر ملز ایسوسی ایشن کا ایف آئی اے کو جواب جمع ، انکوائری افسران کی اہلیت پر سوال اٹھا دیا

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا ایف آئی اے کو جواب جمع ، انکوائری افسران کی اہلیت پر سوال اٹھا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چینی بحران سے متعلق رپورٹ آنے پر شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی بحران سے متعلق ڈی جی ایف آئی اے کو تفصیلی جواب جمع کرادیا۔شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے 45 صفحات پر مشتمل جواب میں شوگر ملز مالکان پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ ایف آئی اے کی رپورٹ من گھڑت اور یکطرفہ تھی، تحقیقات میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کا موقف شامل نہیں تھا۔ چینی کے حوالے سے جو اقدامات کیے وہ سب قانونی تھے، اس لیے فرانزک رپورٹ بھی تسلیم نہیں کریں گے اور اگر ایف آئی اے سے انصاف نہ ملا توعدالت سے رجوع کریں گے.شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایف آئی اے کو تفصیلی جواب جمع کرا دیا، تنظیم نے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کو خط میں 3 اپریل کو جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی معاملے کے بنیادی پہلوؤں کا جائزہ لے کر درست حقائق سامنے لانے میں ناکام ہو گئی۔

اس خط کی کاپی وزیر اعظم عمران خان اور وزیر داخلہ کو بھی بھجوائی گئی ہے، پنجاب، سندھ، پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو بھی رد عمل سے آگاہ کیا گیا، خط میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تضادات موجود ہیں، یہ قیاس آرائیوں اور گمراہ کن معلومات پر مبنی ہے، جن 3 افسران کو تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی وہ کرمنل تحقیقات کا تجربہ رکھتے ہیں، تاہم ان کے پاس کمرشل یا بزنس سے متعلق معاملات کا تجربہ نہیں تھا۔
ملز ایسوسی ایشن نے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ افسران کے پاس چینی سبسڈی، ایکسپورٹ سمیت قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا زیادہ علم نہ تھا، اس لیے تحقیقاتی کمیٹی ایکس مل پرائس اور سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کا طریقہ کار سمجھنے میں ناکام رہی، رپورٹ میں ملز مالکان پر خود ساختہ، گمراہ کن اور غلط الزامات لگائے گئے، انکوائری کمیٹی نے چینی کی قیمتوں، طلب اور رسد کے غلط تخمینے لگائے۔
خط میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے شوگر ملز کے فرانزک آڈٹ پر بھی اعتراض اٹھا دیا، کہا گیا کہ ملوں کے آڈٹ کا فیصلہ بظاہر امتیازی سلوک کے طور پر کیا گیا ہے، کمیٹی شوگر ایڈوائزری بورڈ کے فیصلوں کا جائزہ لینے میں بھی ناکام رہی، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ چینی بحران کی انکوائری رپورٹ میں تضادات کی نشان دہی کی جا رہی ہے، انکوائری رپورٹ کے میزانیے نمبر 5 اور میزانیے نمبر 8 میں واضح تضادات ہیں، چینی پیداواری نرخ کا تعین وفاقی حکومت کرتی ہے، انکوائری کمیٹی اس حقیقت سے ناواقف نکلی، وفاقی حکومت گنے کی سپورٹ پرائس سے پیداواری قیمت کنٹرول کرتی ہے.

چینی بحران رپورٹ میں کی گئی باتیں غلط، وزیراعظم کو موقف پیش کریں گے، جہانگیر ترین

اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

واضح رہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے ” آر وائی کے” گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں،مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.