fbpx

ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

ٹیکسٹ میسج بھیجنے کی سہولت کو 30 برس مکمل ہوگئے ہیں،پہلا پیغام 3 دسمبر 1992 کو برطانیہ کے برکشائر میں ووڈافون کے ایک انجینئر نے موبائل فون پر بھیجا تھا۔

باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق شارٹ میسج سروس (ایس ایم ایس) کی گزشتہ روز 30 ویں سالگرہ منائی گئی ہے 3 دسمبر 1992 کو دنیا کا پہلا ایس ایم ایس برطانیہ میں ایک بھیجا گیا تھا جس میں میری کرسمس ٹائپ کیا گیا تھا جو ایک ٹیلی کام کمپنی کے ملازم نے یہ ایس ایم ایس اپنے ڈائریکٹر کو بھیجا تھا۔

یہ میسج کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کر کے ارسال کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت تک ٹیلی فون میں کی بورڈ کی سہولت نہیں تھی جبکہ نیل پاپورتھ کو اپنے اوربیٹل 901 فون پر یہ پیغام موصول ہوا تھا جس کا وزن 2.1 کلوگرام ہے تقریباً 12 معیاری آئی فون 14s کے برابر تھا –

بتدریج 160 حروف پر مشتمل ایس ایم ایس کا استعمال عام ہوگیا تھا اپنے عروج پر، فون صارفین نے ہر سال اربوں ایس ایم ایس – یا شارٹ میسیج سروس – پیغامات کا تبادلہ کیا، اور 2010 میں لفظ "ٹیکسٹنگ” لغت میں شامل ہوا۔

سروس اب بھی استعمال کی جاتی ہے، حالانکہ انٹرنیٹ پر مبنی، انکرپٹڈ میسجنگ پلیٹ فارم جیسے واٹس ایپ اور آئی میسیج کہیں زیادہ مقبول ہیں۔

Statista کے مطابق، برطانیہ میں 2021 میں 40 بلین ایس ایم ایس پیغامات بھیجے گئے، جو 2012 میں 150 بلین سے کم ہیں۔ اس کے برعکس، دنیا بھر میں روزانہ 100 بلین واٹس ایپ پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔

چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

پہلا ایس ایم ایس 1992 میں ارسال کیا گیا مگر اس کا تصور 1980 کی دہائی کے شروع میں سامنے آیا تھا مگر موبائل فون پر اسے بھیجنے میں کئی سال لگے1994 میں نوکیا 2010 نامی ماڈل کے متعارف ہونے کے بعد ایس ایم ایس کا استعمال زیادہ ہونے لگا کیونکہ اس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔

90 کی دہائی کے موبائل فونز میں نمبروں والے کی بورڈ ہوتے تھے اور ہر نمبر کے ساتھ 2 یا 3 انگلش حروف منسلک ہوتے تھے مثال کے طور پر C لکھنے کے لیے 1 کے ہندسے کو 3 بار ٹائپ کرنا پڑتا تھا۔

ایس ایم ایس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر گوگل کی جانب سے میسجز ایپ میں گروپ چیٹس کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر کے اضافے کا اعلان کیا گیا یہ فیچر انفرادی چیٹس کے لیے تو پہلے سے دستیاب تھا مگر اب گروپ چیٹس کے لیے اسے متعارف کرایا جارہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ گوگل نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ میسجز ایپ میں صارفین بہت جلد پیغامات پر کسی ایموجی کے ذریعے ری ایکشن کا اظہار کرسکیں گے۔

یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی…