کراچی ،منگھوپیر میں پولیس افسر کے بھتیجے کی مبینہ طور پر شارٹ ٹرم اغوا اور بدفعلی کا واقعہ منظرعام پر آیا ہے جس کا مقدمہ نوجوان کی مدعیت میں تھانہ منگھوپیر میں درج کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، متاثرہ نوجوان نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اویس نامی شہری نے ایک آن لائن ایپلیکیشن کے ذریعے میری معلومات حاصل کیں اور پھر خود کو میری یونیورسٹی کا طالب علم ظاہر کر کے مجھ سے دوستی کی۔نوجوان کا مزید کہنا تھا کہ اویس نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا اور اس ملاقات میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر اغوا کر لیا۔ اس کے بعد ملزمان نے نشہ آور اشیاء اور اسپرے کے ذریعے اسے مدہوش کردیا۔مقدمہ میں نوجوان نے دعویٰ کیا کہ ملزمان نے اس کے ساتھ غیر اخلاقی عمل کیا اور اس دوران ان کی ویڈیو بھی بنالی۔ اس ویڈیو کو اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دے کر اس سے رقم طلب کی گئی۔ تاہم، ملزمان نے اسے رات کے وقت سرجانی کے قریب ایک سنسان علاقے میں چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس وعدے کے ساتھ کہ رقم دینے پر ویڈیو اپ لوڈ نہیں کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان ابھی تک میڈیکل کرانے کے لیے تیار نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے اور انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔یہ واقعہ منگھوپیر میں آن لائن ایپلیکیشنز کے ذریعے ہونے والے جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس سے نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔







