fbpx

سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

سوشل میڈیا کا استعمال آج کل عام ہے، اور ایک نشہ بن کر لوگوں کی زندگیوں سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر عمر کے لوگ خصوصاً نوجوان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کا بنیادی مقصد تفریح حاصل کرنا، وقت گزاری اور نت نئ دوستیاں بنانا اور خبریں وغیرہ حاصل کرنا ہے۔ لوگ مختلف اغراض و مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات ہیں۔ لیکن اس کا استعمال کثرت سے نہیں کیا جانا چاہیے جو کہ آج کل عام ہے۔ لوگ  تنہائی، ڈپریشن، ایگزاٹی اور مختلف ذہنی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، یہ ان کے لیے حتی الامکان اطمینان بخش ہو سکتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے استعمال سے ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نقصانات بہر حال کافی زیادہ ہیں۔

لوگ صحت مندانہ زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں، فون، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات کا مسلسل استعمال بہت خطرناک ہے، ان سے نکلنے والی شعاعیں انسانی جسم پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لوگ ان آلات کو استعمال کرنے کے لیے بیشتر وقت ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہتے ہیں اور صحت مندانہ سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، جس کے صحت پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا لوگوں کی زہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے کے علاوہ روز مرہ زندگی پر بھی بری طرح سے اثر انداز ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر دوستیاں پالی ہوئی ہیں اور دن کا بیشتر وقت سوشل میڈیا اور اس پر بنائے گئے دوستوں کے ساتھ مشغول رہتے ہیں، اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور وقت نہیں دے پاتے۔ لوگوں نے آپس میں ملنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنی زاتی زندگی نظر انداز کرتے ہیں۔ بہت سے کام ان کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ لوگ حقیقی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اتنا وقت سوشل میڈیا پر گزار کر بھی لوگ غیر مطمئن رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بننے والی دوستیاں ٹوٹنے پر اکثر نوجوان افسردہ رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر بہت جلدی پھیلتی ہے۔ سوشل میڈیا جھوٹی خبریں پھیلانے کا گڑ بنتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی خبر یا بات نشر کی جائے تو لوگ بلا تصدیق اس کو آگے پھیلانے میں لگ جاتے ہیں۔جس سے بعض اوقات سنگین قسم کی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ مہذب بن کر شر انگیز مواد شائع کرتے ہیں اور نفرت پھیلاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال سے لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اپنی اخلاقی اقدار اور اخلاقیات کو بھلا کر اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بری زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ طعن و تشنیع اور گالم گلوچ کا رواج عام ہو رہا ہے۔ جس کا اثر بہت سے نوجوانوں اور بچوں پر پڑ رہا ہے۔ جو کہ تشویشناک صورتحال ہے۔

لوگ سوشل میڈیا پر مثبت کام بھی کرتے ہیں، نوجوانوں اور لوگوں کے لیے کورسز وغیرہ اور دیگر چیزیں سیکھنے کے بہت زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں، لوگ اپنے کاروبار وغیرہ کی اشاعت کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے زریعے کامیاب کاروبار بھی کرتے ہیں۔ مختلف مذہبی اور دیگر موضوعات پر راہنمائی کے پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں۔

بہرحال لوگوں کو خصوصاً نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا استعمال اپنی بہتری کے لیے کرنا چاہیے، انہیں کسی بھی صورت اپنی زندگی عذاب بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ایک جال ہے، جو آپ کو بری طرح جکڑ سکتا ہے، آپ کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے ہوش و حواس بحال رکھیں اور توازن کے زریعے اس کا استعمال کریں۔ خود کو حقیقی اور صحت مندانہ زندگی کی طرف راغب کریں اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع نہ کریں۔ سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

@FarooqZPTI

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!