سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز بنانے والوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بڑا قدم اٹھا لیا

سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز بنا نے والے ہو جائیں تیار کیونکہ فیک آئی ڈیز بنا کر شہریوں سے پیسے بٹورنے والوں کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ جعلی آئی ڈیز کے پیچھے چھپے نیٹ ورک کو گرفتار کرے گا –

باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شہریوں کی جعلی آئی ڈیز بنا کر ان کے قریبی افراد سے پیسے بٹورنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے-

سال 2021 کے پہلے 7 ہفتوں میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تین ہزار سے زائد تحریری شکایات موصول ہوچکی ہیں جس میں سوشل میڈیا فراڈ کے ذریعے شہریوں سے پیسے بٹورے جارہے ہیں۔

میڈیا کو راولپنڈی کے رہائشی اسد احمد نے بتایا کہ کسی نامعلوم ملزم نے فیس بک پر اس کے نام سے جعلی آئی ڈی بنا رکھی ہے جبکہ اس کی اصل آئی ڈی سے فوٹو چوری کرکے جعلی آئی ڈی پر لگائی گئی ہے-

جعلی آئی ڈی کے پیچھے چھپے افراد اس کے قریبی دوستوں کو پہلے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے ہیں اور بعد میں کسی بھی مشکل کا ذکر کرنے کے بعد فوری پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسد احمد کا کہنا تھاکہ اس نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تحریری طور پر درخواست کردی ہے جس میں ایف آئی اے حکام نے درخواست وصول کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ فیک آئی ڈی چلانے والوں کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔

تاہم اس حوالے سے ایف آئی اے ذرائع کا کہنا تھاکہ سائبر کرائم ونگ ایسی تمام جعلی آئی ڈیز کا ڈیٹا مکمل کرچکا ہے آئی ٹی ایکسپرٹس کی بھی مدد لی جائے گی جبکہ مختلف جدید وسائل استعمال کرکے اس جرم کے پیچھے موجود افراد کی لوکیشن حاصل کی جائے گی تاکہ متعلقہ علاقوں میں چھاپے مار کر جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جاسکے۔

ایف آئی اے ذرائع کا یہ بھی کہنا تھاکہ اس حوالے سے فیس بک اور سماجی رابطوں کی دوسری ویب سائٹس کو سرکاری سطح پر تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ مین سرور سے بھی معلومات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔

اس حوالے سے پاکستان ٹئٹر پینل پر سائبر کرائم اوئیرنیس کے نام سے ٹرینڈ ٹوئٹر ٹرینڈ فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جس میں بے شمار لوگ حصہ لیتے ہوئے اپنی شکایات درج کروا رہے ہیں اور اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں-


اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے آمنہ جبین نامی خاتون کا کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے میں نے اسکیم کال کے ذریعہ ایزی پیسہ سے اپنی رقم کھوئی ہے۔ آج کل بہت سارے لوگ اس فراڈ کے بارے میں شکایت کر رہے ہیں لہذا پی ٹی اے اب لوگوں میں بیداری پیدا کررہا ہے کہ کبھی بھی اپنی ذاتی یا مالی معلومات جیسے کہ اے ٹی ایم پن کوڈ ، سی این آئی سی وغیرہ شئیر نہ کریں۔


ثنا نامی خاتون نے لکھا کہ کسی کی تصویر سوشل میڈی پر اپلوڈ کر کے اسے بلیک میل کرنا بھی سائبر کرائم ہے-


طیب مامون نامی صارف نے کہا کہ کبھی بھی اپنی ذاتی معلومات آئی ڈی کارڈ نمبر وغیرہ کسی سے شئیر نہ کریں-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.