fbpx

برطانیہ: سوشل میڈیا پر پٹرول بیچنے کی کوشش، عوام میں شدید غم وغصہ

برطانیہ میں خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر 10 لیٹر پٹرول فروخت کرنے کی کوشش کی۔

باغی ٹی وی : برطانوی اخبار کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک خاتون صارف نے پٹرول کے دو کینیوں کی تصاویر کے ساتھ پوسٹ شیئر کی کہ وہ پٹرول کے دو کین 50 پاؤنڈز کے عوض فروخت کرنا چاہتی ہیں پوسٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ قیمت میں کین شامل نہیں ہیں۔

فیس بک کی خاتون صارف نے پٹرول کی جو قیمت بتائی تھی وہ پمپس پہ فروخت کیے جانے والے پٹرول کی قیمت سے چار گنا زائد تھی۔

اسٹاک پورٹ کی رہائشی خاتون کی جانب سے جیسے ہی یہ پوسٹ شیئر کی گئی تو لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

افغان فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کی پیٹرولنگ پر طالبان نے نرم لہجے میں سخت وارننگ دے دی

خاتون صارف نے اس کے بعد فیس بک سے پوسٹ ہٹادی لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ پوسٹ پٹرول کے فروخت کیے جانے کی وجہ سے ہٹائی گئی ہے اور یا پھر عوامی ردعمل سے مجبور ہو کر ہٹائی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں ٹینکر ڈرائیوروں کی کمی کی وجہ سے پٹرول کی ترسیل میں خلل ایک بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پٹرول کی سپلائی کو معمول پر لانے کے لیے فوج کی مدد حاصل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

لندن سمیت برطانیہ کے مختلف حصوں میں پٹرول پمپوں پر گزشتہ چند روز سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں جب کہ لوگوں نے آنے والے دنوں میں پٹرول نہ ملنے کے خدشات کی وجہ سے اپنی ضروریات سے زیادہ پیٹرول خریدنا بھی شروع کر دیا ہے۔

وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت کے وزرا مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک میں پیٹرول کی کوئی کمی نہیں ہے اور صرف وقتی طور پر پٹرول پمپوں تک تیل کی ترسیل ٹینکر ڈرائیوروں کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے جو جلد معمول پر آجائے گی۔