fbpx

صومالیہ : دو مختلف کاربم دھماکوں میں 35 افراد ہلاک، 40 سے زائد زخمی

صومالیہ کے شہر مہاس میں دو کار بم دھماکوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد سمیت 35 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

باغی‌ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق مہاس پولیس چیف کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے جبکہ ہلاک شدگان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

نو افراد پر مشتمل خاندان میں سے صرف ایک بچہ زندہ بچا۔ دیگر خاندانوں نے بھی اپنے آدھے افراد کو کھو دیا۔ دو خودکش کار بم دھماکوں نے بہت سے شہریوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دیا۔

پولیس چیف کے مطابق ایک کار بم دھماکہ ان کے گھر کے باہر انہیں نشانہ بنانے کیلئے کیا گیا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ وفاقی قانون ساز اسمبلی کے رکن کے گھر کے باہر کیا گیا۔

منہاس کے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ مرکزی صومالیہ کے شہر مہاس میں ہونے والے دھماکے القائدہ سے منسلک دہشتگرد گروہ الشباب کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

الشباب کے میڈیا آفس نے ایک بیان میں ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے "مرتد ملیشیا اور فوجیوں” کو نشانہ بنایا اور مرنے والوں کی تعداد 87 بتائی۔

الشباب اکثر مقامی حکام اور رہائشیوں سے زیادہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیتا ہے۔

الشباب 2007 سے صومالیہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہا ہے ، گزشتہ سال حکومتی فورسز اور مکاویسلی کے نام سے جانے جانے والی اتحادی قبائلی ملیشیاؤں نے اسے ہیران سے باہر دھکیل دیا گیا تھا، اس علاقے میں جہاں مہاس واقع ہے

فوجیوں اور ملیشیاؤں کو ان کے حملے کے دوران ریاستہائے متحدہ اور افریقی یونین کے فوجیوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

صدر حسن شیخ محمد کی حکومت کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں الشباب کے سینکڑوں جنگجو مارے گئے ہیں اور درجنوں بستیوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا ہے، حالانکہ میدان جنگ کے بہت سے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکتی۔

جارحانہ کارروائیوں کے باوجود، الشباب نے حالیہ مہینوں میں متواتر حملے کیے ہیں، جن میں دارالحکومت موغادیشو میں کئی سرکاری تنصیبات اور ہوٹل بھی شامل ہیں۔