fbpx

کچھ ناراض بلوچ ملک کے دشمن بنے ہوئے: ضیاء لانگو

کوئٹہ : کچھ ناراض بلوچ ملک کے دشمن بنے ہوئے:اطلاعات کے مطابق ضیاء لانگو نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں سے مزکرات کی ہے کچھ ایسے لوگ ہے جو ملک کے دشمن بنے ہوئے۔

صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل جو مسجد نبوی میں واقعہ پیش آیا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے، سعودی حکومت سے مطالبہ کرتے ہے کے پاکستان کے شہریوں کو تحفظ دے جب وہ وہاں آتے ہے۔

ضیاء لانگو نے کہا کہ ناراض بلوچوں سے مزکرات کی ہے کچھ ایسے لوگ ہے جو ملک کے دشمن بنے ہوئے، حکومت کی جانب سے ان سے مزکرات کرنے کے لئے کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس خاتون نے دھماکہ کیا تھا اس کو ہم دہشت گرد سمجھتے ہے۔

صوبائی مشیر داخلہ ضیاء لانگو کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر کی جانب سے خواتین کو برائن واش کرنا افسوس کی بات ہے، اس طرح کے واقعات کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے۔

یاد رہے کہ دو دن قبل کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کو لے جانے والی گاڑی کے قریب مبینہ خود کش دھماکے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک گاڑی اساتذہ کو لے کر کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آ رہی تھی۔ کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی ۔

کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کراچی یونیورسٹی میں چین کے شہر چنگڈو میں قائم سیچوان نارمل یونیورسٹی کےا شتراک سے 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کے فوری بعد گاڑی میں آگ لگ گئی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق اساتذہ کی گاڑی کے قریب سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی دھماکے کی زد میں آیا۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کش دھماکہ تنظیم کی شیری بلوچ نامی خاتون حملہ آور نے کیا ہے۔

بعد ازاں دھماکے کی سی سی ٹی وی کیمرے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں نظر آ رہا ہے کہ اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکے کے وقت ایک خاتون موجود ہیں۔ البتہ ابھی پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب دھماکے کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے۔