کچھ خواجہ سراہوتےہیں توکچھ بنتےہیں:کچھ سےرومانوی حرکتیں ہوجاتی ہیں اورکچھ کرتےہیں:ماہرین نفسیات

لاہور:کچھ خواجہ سرا ہوتے ہیں توکچھ بنتے ہیں:کچھ سے رومانوی حرکتیں ہوجاتی ہیں اورکچھ کرتے ہیں :ماہرین نفسیات نے خواجہ سراوں کی خفیہ گوشوں کی حقیقتوں پرسے پردہ اٹھا دیا

خواجہ سرا پیدائشی طورپرنارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں دماغی بیماری کی وجہ سے وہ جنس مخالف رویہ اپناتے ہیں،

اطلاعات کے مطابق پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچوں اور خواجہ سرا کے حوالے سے کام کرنے والی برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے انکشاف کیا ہے کہ سٹرکوں پر بھیگ مانگنے اور مختلف پارٹیوں میں ڈانس کرنے والے خواجہ سراﺅں کی اکثریت شادی شدہ ہے۔

گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ جنس مخالف روئیے کے باوجود خواجہ سرا نہ صرف شادی کر تے اور فیملی بناتے ہیں کیونکہ خواجہ سرا پیدائش کے وقت سو فیصد نارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں لیکن پھر چار سال کے بعد ان کے دماغ میں پیدا ہونے والا مادہ انہیں جنس مخالف کا رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتا ہے اور پھر ایک نارمل لڑکا خود کو لڑکی سمجھنے لگتا ہے جبکہ نارمل لڑکی خود کو لڑکا سمجھ کر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں ،

برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان کہتے ہیں کہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے ایسے لوگوں کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کا علاج ایک اچھا ماہر نفسیات چھے مہینے کے اندر کر سکتا ہے، بارہ سال کی عمر سے قبل اس بیماری کا علاج آسانی کیساتھ ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد مریض کے تعاون کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔

برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ ٹرانسجینڈر کے مسئلے کو والدین اور سوسائٹی کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہونے والے انسان کا مذاق اُڑانا ، تضحیک کرنا آزادی رائے کے منافی ہے جبکہ دین اسلام میں بھی کسی کی دل آزاری سے منع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ والدین چھوٹے بچوں پر نظر رکھیں اگر ان کا بچہ جنس مخالف والی چیزوں میں دلچسپی لے رہا ہے ،ایک چاریا پانچ سال کا لڑکا میک اپ کرنا، گھڑیوں سے کھیلنا اور لڑکیوں کے گروپ میں رہنا پسند کررہا ہو ،اسی طرح اگر ایک لڑکی لڑکو ں کے کھیل ،بولنا اور کپڑے پسند کرے تو سمجھ لیں کہ دماغی بیماری میں مبتلا ہے لہٰذا والدین کو چاہیے کہ فوری طور پر کسی اچھے سائیکالوجسٹ سے رجوع کریں۔

سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں میں یہ بیماری ایک اچھا ماہر نفسیات جلد ختم کر سکتا ہے ،عمر بڑھنے کے ساتھ ٹرانسجینڈر (خواجہ سرا)کے اپنی جنس مخالف رویئے پر یقین پختہ ہو جاتا ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب والدین معاشرے میں شرمندگی کے باعث ایسے بچوں سے لا تعلقی اختیار کرلیتے ہیںحالانکہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ،اگر والدین ایسے بچوں کے ساتھ پیار ،محبت کا رویہ اپناتے ہوئے ان کا علاج کراوئیں یا پھر انہیں ہمارے پاس لے آئیں کیونکہ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچے اور خواجہ سرا دونوں کا علاج مفت کرتی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.