اسپیکر قومی اسمبلی کا تمام اپوزیشن رہنماؤں کو ایل او سی کے مشترکہ دورے کا مشورہ

اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نے تمام سیاسی جماعتوں کو لائن آف کنٹرول کے دورے کا مشورہ دے دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اسپیکر آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات انتہائی بدترین ہیں ۔ دو ایٹمی ملکوں میں جنگ چھڑ گئی تو اس کی زد میں صرف یہ دو ملک نہیں آئیں گے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا تک جائیں گے اوراگر اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر کے بدترین حالات کا نوٹس نہیں لیتی تو اس کا جواز اور وجود پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں کو کہتا ہوں کہ لائن آف کنٹرول کا مشترکہ دورہ کریں اور کشمیریوں سے یکجہتی کریں ،ایک ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کے نتیجے میں بدترین حالات ہیں،موجودہ پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر پر کلیدی کردارادا کررہی ہے،

سپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کے حوالہ سے وزیراعظم سمیت کسی کا بھی کسی قسم کا دبائو نہیں ہے، متعلقہ قواعدو ضوابط میں ترامیم کے معاملے پر اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں، قانون کے مطابق معاملات کو چلا رہا ہے ،

اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری دعوت پر سلطنت عمان سمیت مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود کے پاکستان کے دورے شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چل رہاہوں ماحول کو ٹھیک رکھنے کیلئے دونوں طرف کی مدددرکار ہے۔ پارلیمان کا فرض ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترے لوگوں نے اپنے مستقبل کے حوالے سے اس پارلیمان سے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں ۔ غلطیاں ہوسکتی ہیں ہمیں ذرائع ابلاغ کی بھی رہنمائی چاہیے۔

حریت رہنما یاسین ملک کی کمسن بیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ ہونے پر اپنے پیغام میں دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ کشمیری 30 دن سے کرفیو میں ہیں، انہیں دنیا کی مدد کی ضرورت ہے، عالمی دنیا ان کی مدد کو آگے آئے،

یاسین ملک کی بیٹی کا کہنا تھا کہ کشمیری مر رہے ہیں،جیلوں میں بند ہیں، گھروں میں محصور ہیں، کب ان کی مدد کی جائے گی، کشمیریوں کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں، پینے کے لئے پانی نہیں، زخمیوں و مریضوں کے لئے ادویات نہیں، بچے سکول نہیں جا سکتے، بھارت نے تمام تعلیمی ادارے بند کر رکھے ہیں،

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے ہوئے کرفیو کو آج مسلسل 30واں دن ہے۔انسانی بحران شدید تر ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ مقبوضہ کا رابطہ بیرونی دنیا سے تقریباً ایک ماہ سے مسلسل کٹا ہوا ہے۔مقبوضہ وادی میں 5اگست سے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے۔ مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن اپڈیٹ نہیں کرپا رہے جبکہ بیشتر اخبارات کرفیو کی وجہ سے پرنٹ نہیں ہوسکے۔

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ بیرونی دنیا میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں کشمیری محاصرے کی کیفیت میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاﺅنی کامنظر پیش کر رہا ہے۔بھارتی فوج نے دس ہزار سے زائد کشمیر یوں کو گرفتار یا نظر بند کیا ہے۔جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ بھارتی حکام کشمیری قیدیوں بھارت کی دیگر جیلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

دریں اثنا مقبوضہ وادی میں ادویات کی شدید قلت ہو چکی ہے ۔کشمیری دہلی سے ادویات خریدکر لا رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت ہو گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے خوراک کی بھی کمی ہو گئی ہے۔

بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف جلسوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ڈرون کیمرے استعمال کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.