کراچی:پی ڈی ایم کےجلسےسےعلامہ ساجدمیر،اویس نورانی، امیرحیدرخان،عبدالمالک بلوچ کےخطابات،حکومت پرسخت تنقید

کراچی : پی ڈی ایم کے جلسے سے علامہ ساجدمیر،شاہ اویس نورانی،امیرحیدرخان ،عبدالمالک بلوچ کے خطابات اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا دوسرا جلسہ جاری ہے ، جلسے میں کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے،جبکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔

جلسے سے سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے جے یو پی کے سربراہ شاہ اویس نوارنی نے کہا کہ کے وزیراعظم کے چہرے کی گھبراہٹ دیکھی ہے، دوسال قبل جو لوگ انہیں لے کر آئے وہ خوش تھے کہ گھوڑا میدان میں دوڑے گا مگر اب انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ گھوڑا نہیں چلے گا، نواز شریف کو جیل میں بھیجنے کی بات کرنے والے نے نصیراللہ بابر کے ساتھ لندن جاکر الطاف حسن کو لانے کا وعدہ کیا جو پورا نہ ہوا، گرین لائن پروجیکٹ اس لیے تعطل کا شکار ہے کہ اس پر تختی نواز شریف کی لگی ہوئی ہے۔

پی ڈی ایم کے جلسے سے اے این پی کے رہنما امیر حیدر خان کا خطاب ان کا کہنا تھا کہ آج کارساز کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پچھلے دنوں جو جوان شہید ہوئے ان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سلیکٹڈ حکومت کے نادان وزیر و مشیروں نے کہا کہ اے پی سی نہیں ہو گی، پھر کہا کہ فیصلے نہیں ہونگے،عمران سلیکٹڈ خان کیوں اتنے غصے میں ہیں، کیوں اتنا خوف، اب کہ رہے ہیں کہ ایک نئے عمران خان کو دھکیں گے،

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نئے پاکستان کو دیکھا ہم نئے عران خان کو بھی دیکھ لیں گے، عوام دیکھ رہے ہیں کہ معیشت کا کیا حال ہو چکا ہے، آج مزدور، کسان، تاجر، سرکاری اہلکار اور سرمایہ دار احتجاج کر رہا ہے، پوچھوں غریب سے کہ بجلی کا بل آتا ہے تو کیا حال ہوتا ہے، غریب سے پوچھو کہ آٹا اور چینی کیسی مل رہی ہے ، غریب سے پوچھو کہ ادویات کیسے مل رہی ہیں ، جناب والی آپ کے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر کہاں گئے،

مرکزی جمعیت اہلحدیثت کے رہنما اورن لیگ کے حلیف علامہ ساجد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حالات کو بدلنے کے لیے ضرورت ہے کہ پی ڈی ایم جدوجہد کو جاری رکھے، عوام کے تعاون سے حالات بدلیں گے، انشاالللہ پاکستان میں جمہوریت آئے گی، ہمیں اپنی حکومت چننے کا حق ملے گا، حکومت لانے والوں نے عوام کے مینڈیٹ کو روندا، ان میں تو اتنی بھی اہلیت نہیں کہ حکومت ملنے کے بعد اسے چلا سکیں، ہر کام انہی کے ہاتھوں سے ہوتا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما عبد المالک بلوچ ہم چاہتے ہیں کہ طبقات میں برابری ہو ان کا استحصال نہ ہو، ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ اور میڈیا آزاد ہو، بدقسمتی سے 72 سالوں سے ایک سکیورٹی اسٹیٹ کا ویژن ہے، جو ملک کے بنیادی حقوق کو ماننے سے انکاری ہے، ہم کہتے ہیں کہ یہ ملک ایک کثیر الملک قومی ریاست ہے، وہ پارلیمنٹ کی بالادستی سے انکاری ہیں، ہمارے بچے تعلیم اور پانی کے لیے ترس رہے ہیں، جب تک ہمسائیوں سے برادرانہ تعلقات قائم نہیں کریں گے تب تک معاشی ترقی نہیں کر سکتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.