fbpx

مذہب کی آڑ میں‌ سری لنکن منیجر قتل، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اورقومی رہنماوں‌ کا اظہار افسوس

لاہور: مذہب کی آڑ میں‌ سری لنکن منیجر قتل، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اورقومی رہنماوں‌ کا اظہار افسوس ،اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ میں پیش آنے والے مبینہ واقعہ میں جس میں‌ مذہب کی آڑ میں مبینہ توہین مذہب کا الزام لگا کر فیکٹری ملازمین نے تشدد کر کے سری لنکن منیجر کو قتل کر دیا اور لاش کو جلا دیا۔

اس انتہائی گھنونے اور مجرمانہ فعل کے مرتکب افراد میں‌ سے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا،

ادھر جہاں اس واقعہ پرپوری قوم افسردہ ہے وہاں‌ قومی قیادت بھی اس وقت غم میں نڈھال ہے ، ادھر اسی حوالے سے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اس واقعہ میں سیالکوٹ وزیر آباد روڈ پر مبینہ توہین مذہب پر نجی فیکٹری کےمینیجر کو مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا، مشتعل افراد نے فیکٹری کا گھیراؤ کیا اور وزیر آباد روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔

آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او گوجرانوالا کو فوری موقع پر پہنچنے کا حکم دے دیا۔

آر پی او گوجرانوالہ عمران ارحم نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد حقائق منظر عام پر آ جائیں گے۔ ڈی پی او سیالکوٹ کی جانب سے 10 ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں جو فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر کے گرفتار کیا جائے گا۔

اس دلخراش واقعے کے بعد صدر، وزیراعظم، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ٹویٹر پر لکھا کہ سیالکوٹ واقعے کے بعد میں وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کی جانب سے کیے گئے فوری اقدام کو سراہتا ہوں۔ یہ واقعہ یقیناً بہت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ یہ واقعہ کسی بھی طرح سے مذہبی نہیں۔ اسلام ایسا مذہب ہے جس میں پر تشدد رویے کی بجائے امن اور انصاف کا پرچار کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ سیالکوٹ میں فیکٹری میں ہجوم کی طرف سے سری لنکن منیجر کو حملے کے دوران زندہ جلانا پاکستان کے لیے باعث شرم ہے۔ میں اس واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں۔

انہوں نے ہدایت کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی غلطی نہ ہونے دیں، تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں جاری ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہاکہ اس طرح کے ماورائے عدالت واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی تاہم اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹر پر قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے انتہائی افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب کو واقعے کی تفتیش کی ہدایت کی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یقین دلاتا ہوں کہ واقعے میں جو بھی اس غیرانسانی واقعے میں ملوث ہیں وہ نہیں بچیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹویٹر پر لکھا کہ سیالکوٹ واقعہ بہت دلخراش ہے؛ قابل مذمت ہے۔ وفاقی حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں۔ نیشنل کرائیسس سیل واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہا ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کی عدالت میں لائینگے۔ مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے واقعات کو روکنے کے لئے پورے معاشرے کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

شہباز شریف:

سیالکوٹ میں انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعے کی مذمت اور حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق حساب دینا چاہیے۔ وقت آگیا ہے ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے امن، ہمدردی، محبت اور رحمت کے پیغام پر عمل کریں۔

شیریں مزاری:

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ سیالکوٹ واقعہ انتہائی خوفناک اور قابل مذمت ہے جب کہ ہجومی تشدد کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

 

 

ترجمان پنجاب حکومت:

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور آئی جی پنجاب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور سری لنکن شہری کا حادثہ بہت افسوسناک ہے، متعدد افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سے لوگوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، واقعہ میں ملوث افرادکےخلاف کارروائی ہو گی۔

 

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے میں سری لنکن منیجر کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان علما کونسل سری لنکن منیجرکے قتل کی بھرپورمذمت کرتی ہے۔ مجرمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سری لنکن منیجرپر حملہ کرنے والوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن منیجرکو قتل کرنے والوں کا عمل غیراسلامی اور غیرانسانی ہے۔