fbpx

سری لنکا میں پر تشدد جھڑپیں: 5 ہلاک، 190 سے زائد زخمی، مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر آتش، کرفیو نافذ

سری جے وردھنے پورا کوٹے: سری لنکا میں مالیاتی بحران پر قابو پانے میں ناکامی پر حکومت کے خلاف جاری احتجاج میں شدت آتی جارہی ہے اور جھڑپوں میں اب تک 5 افراد ہلاک اور 190 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جھڑپوں میں شدت اس وقت آئی جب حکومت کے حامیوں نے کولمبو میں صدر دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر لاٹھیوں سے حملہ کردیا جس کے باعث درجنوں افراد زخمی ہو گئے جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی زخمیوں کی بڑی تعداد کو اسپتال لائے جانے کی تصدیق کولمبو نیشنل اسپتال کے ترجمان پشپا نے کی ہے۔

عوامی دباؤ: سری لنکن وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

مختلف جھڑپوں میں 5 افراد ہلاک اور 190 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں،کرفیو کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے، ہلاک افراد میں حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق کولمبو سے باہر ہونے والی جھڑپوں میں حکمراں جماعت کے رکن پارلیمنٹ اماراکیرتھی نے اپنی کار کے سامنے آنے والے دو افراد پر فائرنگ کی جس میں سے ایک شخص دم توڑ گیا، اس کے بعد رکن اسمبلی نے ایک عمارت میں پناہ لے لی تاہم وہاں بھی سیکڑوں مشتعل مظاہرین لوہے کی راڈیں، ڈنڈے اور چاقو تھامے پہنچ گئے اور عمارت کا محاصرہ کرلیا مظاہرین سے بچنےکے لیے رکن پارلیمنٹ نےخودکو گولی مارلی۔

رکن پارلیمنٹ

مشتعل مظاہرین نےکرونیگالا شہر میں راجا پاکسےکا آبائی گھر نذر آتش کردیا جب کہ کولمبو کے قریب بھی مشتعل افراد نے سابق وزیر اور حکومتی جماعت کے 2 اراکین پارلمینٹ کے گھر جلادیئے۔

بھارت: قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا


سری لنکا میں متعین امریکی سفیر نے پرامن مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد پر اپنے ردعمل میں مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دینے والوں کو گرفتار بھی کیا جائے۔

خیال رہےکہ مظاہرین مستعفی وزیراعظم راجا پاکسےکے بھائی اور سری لنکا کے صدرگوتابایا راجا پاکسے سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے دفتر کے باہر ایک ماہ سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا گزشتہ کئی ماہ سے کر رہا ہے ملک میں نہ صرف کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے بلکہ ادویات تک کی دستیابی مشکل ہو چکی ہے جبکہ حکومت کے پاس تیل کی درآمدکے لیے غیر ملکی کرنسی کا بحران ہے اور تیل کی قلت کے باعث ملک کو بجلی کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے، شہری پیٹرول اور ایندھن کے لیے گھنٹوں قطار میں لگنے پر مجبور ہیں۔

اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت