fbpx

عوامی دباؤ: سری لنکن وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

کولمبو: سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے شدید مالی بحران کے بعد ملک گیر ہونے والے عوامی احتجاج، مظاہروں اور امن و امان کی شدید بگڑتی ہوئی صورت حال سے مجبور ہوکر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سری لنکا میں شدید مالی اور سیاسی بحران پر سری لنکن وزیر اعظم اس پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہےکولمبو میں جھڑپوں کے بعد وزیر اعظم مہندرا راجا پاکسے نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا توقع ہے صدر گوتبیا راجا پاکسے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ کابینہ تشکیل دینے کے لیے مدعو کریں گے۔

صدر گوتبیا راجا پاکسے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کے چھوٹے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے وہ ملک میں شدید مالی بحران اور پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضرورت کی بے پناہ قلت اور عوامی دباؤ کے باوجود اپنے بھائی سے استعفیٰ نہیں لے رہے تھے۔

سری لنکن میڈیا کے مطابق وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کا استعفیٰ اُس وقت سامنے آیا ہے جب صدر گوتبیا راجا پاکسے نے جمعے کے روز ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں حالات سے مجبور ہو کر وزیراعظم سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی۔

صدر گوتبیا راجا پاکسے نے اپنے بھائی اور وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے کی سیٹ بچانے کے لیے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک میں کرفیو بھی نافذ کیا تھا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تھا تاہم مظاہرے تھم نہ سکے تھے۔

بی بی سی کے مطابق یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب کولمبو میں راجاپاکسے کے حامیوں اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد جزیرے کو کرفیو کے تحت رکھا گیا تھا ایک مقامی ہسپتال کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں تشدد میں کم از کم 78 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بھارت: قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی کمی کے خلاف گزشتہ ماہ سے احتجاج جاری ہے1948 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے اس جزیرے کی قوم کو بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ حکومت نے ہنگامی مالی مدد کی درخواست کی ہے۔

فوٹو بشکریہ: اے ایف پی

76 سالہ مہندا راجا پاکسے نے اپنا استعفیٰ اپنے چھوٹے بھائی صدر گوتبیا راجا پاکسے کو بھیجا، اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سے بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی، لیکن اس اقدام سے حکومتی مخالفین کو مطمئن کرنے کا امکان بہت کم ہے جب کہ مؤخر الذکر اقتدار میں ہیں۔

اپریل کے شروع میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے، مظاہرین صدر راجا پاکسے کے دفتر کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں قبل ازیں کولمبو میں وزیر اعظم اور صدر کے دفاتر کے باہر تشدد کے بعد پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم کے خط میں کہا گیا ہے کہ ان کے استعفے کا مقصد "ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کل جماعتی حکومت کی راہنمائی کے لیے راستہ صاف کرنا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اب تک ایسا کرنے سے انکار کیا ہے اور صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ہتھیاروں کی دوڑ،اسلاموفوبیا اورنفرت انگیز تقاریرسےعالمی مسائل میں اضافہ ہوا،منیر…