اگریہ قیامت کی نشانی نہیں تواورکیا ہے ! چھوٹے بھائی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم کا بیان

لاہور: لاہور میں 8 سالہ بھائی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم کو عدالت پیش کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق نشتر کالونی میں کمسن ارسلان کے قتل میں دل دہلا دینے والا انکشاف ہوا تھا۔، بھائی کا قاتل سگا بھائی نکلا جس نے زیادتی کا بھی اعتراف کر لیا۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال نے بتایا کہ ملزم فیضان اپنے چھوٹے بھائی ارسلان کو دوکان سے چیز لینے کے بہانے ساتھ لے گیا تھا،ملزم فیضان نے مقتول ارسلان کو بدفعلی کرنے کے بعد سر پر اینٹیں مار کر گندے نالے میں پھینک دیا تھا،ارسلان 6جنوری کو گھر سے لاپتہ ہو گیا تھااور اس کی لاش آشیانہ سکیم انڈر پاس نالے سے ملی تھے۔

ڈی آئی جی کے مطابق ملزم کا بیان ہے کہ چھوٹا بھائی والدین کو میری شکایتیں لگاتا تھا جس پر مجھے گھر سے مار پڑتی تھی ۔

آج ملزم کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔عدالت نے ملزم کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کر دیا۔تفتیشی افسر نے عدالت میں بتایا کہ ملزم دکان پر لے جانے کا بہانہ کر کے بھائی کو ساتھ لے گیا، ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے،غصے میں آ کر بھائی کو قتل کیا۔

واضح رہے کہ فیضان نے ارسلان کو زیادہ پیار ملنے پر انتقاماً اُس کی جان لی۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے ارسلان سے زیادتی کا انکشاف بھی ہوا۔ 16 سالہ سگے بھائی فیضان نے اپنے ہی چھوٹے بھائی کو زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اس کے سر میں بوتل اور اینٹ مار کر اسے قتل کیا۔

ملزم کا کہنا ہے کہ گھر والے مجھ سے زیادہ ارسلان کو پیار کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق مزید حقائق پنجاب فرانزک کی رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد بچے کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.