fbpx

*اسٹیل مل ورکرز نے سید ناصر حسین شاہ کی درخواست پر سی ای او اسٹیل مل کے گھر کے سامنے جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان*

کراچی 07 فروری : صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اتوار کے روز اسٹیل مل ورکرز کے دھرنے میں پہنچ گئے۔صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ دھر نے میں گزشتہ رات انتقال کر جانے والے ورکر شیر محمد کے جنازہ نماز میں شرکت کی۔ اس موقع پرورکرز اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ جس اذیت میں ، یہاں مائیں اور بہنیں بیٹھی ہیں پی ٹی آئی سرکارکو احساس نہیں ہے۔ اگر ان کو احساس ہوتا تو اسٹیل مل کے ملازمین کو برطرف کرتے ہی نہیں۔یہ ریکارڈ پر موجود ہے جب وہ حکومت میں نہیں تھے تو اسٹیل مل پر جو باتیں کرتے تھے لیکن جب حکومت میں آئے جس طرح تمام باتوں پر انہوںنے یوٹرن لیا اسیٹل مل معاملے پر بھی یوٹرن لے لیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے محنت کشوں کو گزارش کی ہے کہ اس بے حس حکومت کے آسرے میں نہ رہیں اپنا دھرنا ختم کریں جب کہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں ہم ان کے ساتھ ہیں ،پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت محنت کشوں کی آئینی، قانونی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گی۔پیپلزپارٹی چیئر مین نے پہلے دن سے ہدایات جاری کی تھیں کہ اسٹیل مل کے محنت کشوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایات پر وزیراعلیٰ سندھ نے ان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر محنت سعید غنی، مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ، معاونِ خصوصی وقارمہدی اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے بس میں جو بھی ہے ہم کرینگے وزیراعلیٰ سندھ نے اسٹیل مل معاملے پر وفاق کو خط لکھا ہے اور دوسرا خط بھی لکھ رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے اسٹیل مل کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں بھی شامل کروایا ہے۔سندھ اسمبلی نے اس معاملے پر قرارداد منظور کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کے ساتھ ہیں اور کبھی بھی کوئی ظالمانہ کارروائی ہونے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح ہے کہ اسٹیل مل فنکشنل ہو کیوںکہ اسٹیل مل کے چلنے سے سب سے پہلا فائدہ یہاں کام کرنے والوں کا ہو گا اور ہمارے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی ۔صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہم نے وفاق کو لکھا ہے کہ اسٹیل مل سندھ حکومت کے حوالے کریں۔ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر تجاوزات ہٹانے کے لئے کارروائی کی جا رہی ہے۔کراچی کے تمام اضلاع میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور اب تک چار ہزار سے زائدایکڑ قیمتی زمین خالی کروائی گئی ہے جس میں ضلع غربی ،شرقی اور ملیر بھی شامل ہیں۔ملیر میں بارہ سو ایکڑ اراضی واگزار کروائی گئی ہے اس کی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی کے پاس کوئی عدالت کا حکم امتناع ہے تو اس کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بہت سارے اسٹے آرڈر منسوخ کر دیے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ زمین تیس سالہ لیز پر ڈیری ،پولٹری اورایگریکلچر فارمنگ کے لئے لی گئی تھی۔لیکن سب کے سامنے ہے کہ عالیشان عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں اور کمرشل سرگرمیاں جاری تھیں انہوں نے کہا کہ اگر کسی غریب آدمی کا گھر گرا دیا جائے تو اس پر کوئی بات نہیں ہوتی۔لیکن اگر کسی بااثر آدمی اور جو سیاست میں اس وجہ سے ہو کہ وہ اس طرح کے غیر قانونی کام کر سکے تو یہ مناسب نہیں۔ملیر ڈیلپمنٹ اتھارٹی بھر تیوں پر پر انہوں نے کہا کہ عدالت کے احکامات پر اتھارٹی میں کام کرنے والے لوگوں کو ہٹایا تھا اور عدا لت کے ہی احکامات پر نئی بھرتیوں کے لئے ٹیسٹ لیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ ٹیسٹ سے متعلق بہت زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں ہم چیک کر رہے ہیں کہ کوئی قانونی راستہ نکالیں ۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو ٹیسٹ کے نتائج کو منسوخ کر کے دوبارہ ٹیسٹ کر وائے جائیں ۔ اس موقع پر اسٹیل مل ورکرز ایکشن کمیٹی نے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کی درخواست پرسی ای او اسٹیل مل کے گھر کے سامنے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.