fbpx

قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

ایک دفعہ کا ذکر ہے 

میری عمر 47سال ہے اور آٹھ سالوں سے بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلا رہا ہوں،آج تک کوئی چالان نہیں ہوا۔پورے عرصے میں دو بار روکا گیا،فوتگی کا بہانہ کیااور چل سو چل۔ٹی وی پر ہیلمٹ کے بارے میں آگاہی مہم دیکھی،کافی متاثر ہوا،ساتھ ہی جرمانے کے خوف نے جنم لیا تو وددھ والے کے بل سے پیسے کٹ کیے اور ہیلمٹ خرید لیا۔ایک دن ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے بائیک ڈرائیونگ لائسنس بنوا لوں،حالانکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔99%لوگ بائیک اور کار لائسنس اکٹھا اپلائی کرتے ہیں اور جن کے سر پر استاد ہوتا ہے وہ بنوا بھی لیتے ہیں،جب میں نے موٹرسائیکل لائسنس کیلئے اپلائی کیا تو مجھے احساس ہواکہ پاکستان میں شاید لیگل طریقے سے لائسنس بنوایاہی نہیں جا سکتا،وہ پاکستان جہاں کے40%لوگ آج بھی ان پڑھ ہیں،ان سے کہا جاتا ہے کہ پہلے تحریری ٹیسٹ دو پھر ٹریفک اشارے جوکہ 140ہیں،ان کا ٹیسٹ دو پھر گاڑی کا ٹیسٹ دو پھر لائسنس ملے گا۔اگر ایک دن میں 100لوگوں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہے تو ان میں سے 70%ان پڑھ ہوتے ہیں،لہٰذا 60سے70لوگ تحریری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں،باقی میں سے90% لوگ اشاروں میں رہ جاتے ہیں جن 5سے8کو کلیئر کیا جاتا ہے ان میں سے90%چاچے مامے،بھانجے بھتیجے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔میں نے لائسنس پر اس میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹر میں یہ جملہ بار بار سننے کو ملا کہ اشاروں میں امیدوار خزاں کے پتوں کی طرح گریں گے اوربالکل ایسا ہی ہوا۔میں نے صرف موٹر سائیکل کے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن مجھ سے موٹروے والے اشارے پوچھے گئے،جہاں موٹر سائیکل کی اجازت ہی نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کا چپہ چپہ جانتا ہوں مگر ان 140اشاروں کا ذکر خیر90%سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔”کیا یہ کھلا تضاد نہیں”افسوس مجھے اُس وقت بہت زیادہ ہوا جب بڑے بڑے ماہر ڈرائیور جن کو میں 20سال سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہا ہوں،تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کی نظر ہوگئے۔اگر کوئی بدقسمت اپنے گھریلو حالات یا تقدیر کے لکھے کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکاتو اُس کو جینے کا حق تو بہرحال ہے! اُس کی فیملی بھی ہے،وہ بچوں کو بھی پڑھانا چاہتا ہے۔مستقبل کے ئے کچھ محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے،اپنے گھر کی بھی خواہش ہے۔کیا ان پڑھ اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ اگر اس کے پاس ڈرائیونگ کا واحد ہنر ہے تو وہ گاڑی نہیں چلائے گا تو کیا کرے گا۔کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں کبھی سوچا گیا کہ ان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے،ان کے ہنر کو کس طرح قانوناً بنانا ہے۔شاید حکومت کے پاس نہ یہ سوچ ہے اور نہ اس کا حل ہے کیونکہ وہ گڑھے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے،شریف برادران سے اربوں روپے وصول کر لیے ہیں،اب زرداری سے کھربوں نکلوا لیں گے اور معیشت آسمان پر چلی جائے گی،ایسا نہیں ہوتا ہے۔اگر اندھوں،بہروں، گونگوں،ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو پڑھا یا جاسکتا ہے تو ان ہٹے کٹے نوجوانوں کو کیوں نہیں پڑھایا جاسکتا،جن کا ہنر جہالت کے ملبے میں دبا ہوا ہے۔مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو ایک حل ذہن میں آتا ہے کہ جو ڈرائیور لمبے عرصے سے گاڑی چلارہے ہیں یا جو  ان پڑھ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے ہیں اور لائسنس کے بھی خواہشمند ہیں،حکومت ان کے لئے ایک ادارہ بنائے،ان کو خود ٹرینڈ کرے۔ ٹریفک قوانین پر لیکچرز دیئے جائیں۔اشاروں سے آگاہی دلائی جائے اور کامیاب لوگوں کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ وہ باعزت اور ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

@joinwsharif7