ورلڈ ہیڈر ایڈ

بنارس ہندو یونیورسٹی میں’مسلم پروفیسر‘ کی تقرری پر ہنگامہ، طلبا نے کیا احتجاجی مظاہرہ

بنارس: بنارس ہندو یونیورسٹی میں’مسلم پروفیسر‘ کی تقرری پر ہنگامہ، طلبا نے کیا احتجاجی مظاہرہ، اطلاعات کے مطابق سنسکرت ودیا دھرم وگیان (ایس وی ڈی وی) فیکلٹی کے شعبۂ ادب میں ایک مسلم اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری کے خلاف یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرہ شروع ہو گیا ہے۔

امریکہ جانے والوں کے لیے خوشخبری آگئی

ذرائع کے مطابق محکمہ کے ریسرچ اسکالرس و دیگر طلبا نے جمعرات کو یونیورسٹی احاطہ میں وائس چانسلر کی رہائش کے پاس ہولکر بھون میں دھرنا دینا شروع کر دیا۔ یونیورسٹی کے طلبا ’غیر ہندو‘ پروفیسر کی تقرری کو رد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہندوتوا فیصلوں سے پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہوگی ، یہ بھارتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ،ترجمان پاک فوج

‘ بی ایچ یو کے وائس چانسلر راکیش بھٹناگر کو لکھے خط میں مظاہرین طلبا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے بانی اور آنجہانی پنڈت مدن موہن مالویہ نے ایس وی ڈی وی فکلیٹی کو یونیورسٹی کے دل کا درجہ دیا تھا اور یہاں مسلم پروفیسر کی تقرری مناسب نہیں۔

پاکستان میں کرتاپورراہداری کا افتتاح،بھارت نے جواب میں بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کردیا

طلبا نے خط میں لکھا ہے کہ ’’فیکلٹی کی اسٹون پلیٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ ادارہ ثقافتی، مذہبی، تاریخی دلائل اور سناتن ہندوؤں اور ان کی بلاواسطہ یا بالواسطہ شاخوں جیسے آریہ سماج، بودھ، جین، سکھ وغیرہ کے غور و خوض کے لیے بھی ہے۔‘‘ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان سبھی باتوں کو جاننے کے باوجود سازش کے تحت ایک غیر ہندو کی تقرری کی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.