سعودی عرب میں کرونا سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ

سعودی عرب میں کرونا سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ

باغی ٹی وی :سعودی عرب کی وزارت صحت نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کا شکار چھے افراد کی موت اور 472 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد مملکت میں اس مہلک وَبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 4934 ہوگئی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ مملکت میں اب اس مہلک وائرس سے وفات پانے والوں کی تعداد 65 ہوگئی ہے۔آج کرونا وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں میں دو سعودی شہری ہیں۔ ان میں ایک کی عمر51 سال اور دوسرے کی 95 سال تھی۔باقی چار متوفیٰ غیرسعودی ہیں۔ان کی عمریں 42 سے 67 سال کے درمیان تھیں۔

سعودی وزارت صحت نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ دارالحکومت الریاض میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ 118کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔اس کے بعد مدینہ منورہ میں 113، مکہ مکرمہ میں 95 اور جدہ میں 80 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

تبوک میں اس مہلک وائرس کے 22،عرعر،خلیص اور طائف میں آٹھ، آٹھ کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ الہفوف میں سات ،خمیس مشیط میں پانچ اور سبت العلایہ،الخرج، نجران اور ظہران میں ایک ایک کیس کا اندراج کیا گیا ہے۔
نیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 لاکھ 74 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

کورونا وائرس کے چار لاکھ 35 ہزارسےزائد مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پندرہ سو سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکہ میں کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد بائیس ہزارسے تجاوز کر گئی ہے۔ کورونا کیسز کی تعداد پانچ لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ہے۔ ریاست نیویارک میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ نواسی ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

اٹلی میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران مزید چار سو اکتیس افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں اور مجموعی تعداد انیس ہزار آٹھ سو سے بڑھ گئی ہے۔

فرانس میں کورونا سے پانچ سو اکسٹھ اموات سے مجموعی تعداد چودہ ہزار تین سو سے بڑھ گئی ہے۔ جرمنی میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ ستائیس ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے جب کہ3,022 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اسپین میں مزید چھ سو سے زائد افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعدا د سترہ ہزارسے بڑھ گئی ہے۔ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے زائد متاثر ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.