سبسڈی یا لوٹ مار جانیے اس خبر میں

سرگودہا (سپیشل رپورٹر) ضلع بھر میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے رمضان بازاروں میں سبسڈی کے نام پر عوام سے فراڈ کا سلسلہ جاری ہے رمضان بازاروں میں مختلف قسم کے سٹال موجود ہیں جس میں مختلف اشیاء خوردو نوش صرف بازار سے ایک یا دو روپے سستی ہیں تفصیلات کے مطابق سرگودہا ،ساہیوال ،سلانوالی ،شاہ پور ،بھیرہ اور بھلوال میں حکومت کی جانب سے سستا رمضان بازار لگائے گئے ہیں جن کا مقصد عوام کو دیگر بازاروں سے اشیاء خوردونوش سستی فراھم کرنا ہے لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس نظر آرہی ہے حکومت نے ان بازاروں میں مارکیٹ کمیٹی کے سٹال سے عوام کو براہ راست سبسڈی دینے کا عمل شروع کیا جس کے لئے مارکیٹ کمیٹیوں کو بجٹ فراھم کیا گیا مگر ان سٹالوں پر حکومتی سبسڈی سرے سے نظر نہیں آرہی ھمارے ذرائع کے مطابق مختلف مارکیٹ کمیٹیوں میں بیٹھے اہلکاروں نے مختلف مافیا کے ساتھ ملکر مختلف جگہ پر پڑی ناقص دالوں ،چنوں ،اور بیسن سمیت دیگر اشیاء خوردونوش کو خریدا اور اسے اپنے اپنے علاقوں کے بازاروں میں فروخت کرنا شروع کردیا اور ظاہر کیا گیا کہ ھم اشیاء پر سبسڈی دے رہے ہیں جبکہ وہ اشیائے خوردونوش ناقص اور مضر صحت ہیں جن اشیاء کو بازاروں میں فروخت ہی نہیں کیا جاسکتا وہ اشیائے خوردونوش مارکیٹ کمیٹی کے اسٹالوں پر موجود ہیں بھلوال کے سستا بازار کا جب ھمارے نمائندے نے دودہ کیا تو وہاں مارکیٹ کمیٹی کے سٹال پر ناقص چنے اور بیسن کو پایا جبکہ دیگر ریٹ بھی بازار سے زیادہ فرق نہ رکھتے تھے جب اس سلسلے میں مارکیٹ کمیٹی کے زمہ داران سے رابطہ کیا گیا تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے ان کاکہناتھاکہ ھم اپنی خریداری کے مطابق جو سبسڈی دے سکتے تھے دے رہے حالانکہ سٹال کے ریٹ اشیا خوردونوش کی کوالٹی کچھ اور کہانی بیان کررہی تھی وزیراعلی پنجاب کا دعویٰ تھا کہ اس سال سابقہ ادوار سے زیادہ سبسڈی اور بہتر رمضان بازار لگائے جارہے ہیں حالانکہ سرگودہا میں اس دعوے کا حقیقت سے بالکل تعلق نظر نہیں آ رہا ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی افسران حکومت کے دعوے کو حقیقی ثابت کرنے کے لئے اشیائے خوردونوش کی کوالٹی کو یقینی بنائیں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی تمام رمضان بازاروں میں لگے سٹالوں کا خود دورہ کرکے ناقص اشیائے خوردونوش کے سیمپل حاصل کرے تاکہ سستا رمضان بازار کے نام پر عوام کو زہر فروخت کرنے والوں کا محاسبہ ہوسکے دوسری سبسڈی کے ریٹ کسی مذاق سے کم نہیں عوام جب بیس روپیہ کرایہ خرچ کرکے سستا بازار پہنچتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ مذاق ہوگیا کیونکہ وہ بغیر کرایہ ادا کئے اپنے علاقے کی دوکان سے معیاری اور بہتر خریداری کرسکتے تھے اس لئے وزیر اعلی پنجاب کی گڈ گورننس پہلے ہی رمضان بازار میں ناکام ہوتی نظر آرہی ہے جس کا سبب مارکیٹ کمیٹیوں میں بیٹھے کرپٹ افسران بن رہے ہیں اس لئے ایسے افسران اور اہلکاران کی لسٹیں مرتب کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو مارکیٹ کمیٹی سٹالوں پر ناقص مضر صحت اور مہنگی اشیائے خوردونوش فروخت کرنے کے زمہ داران ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.