fbpx

سچ کی طاقت تحریر : عدنان یوسفزئی

ایک  مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ جس شخص کے بارے میں دعا کردیتے تھے کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو، تین راتوں کے اندر اندر اس کو زیارت نصیب ہوجاتی تھی۔

ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: حضرت! یہ مقام کیسے ملا؟ حضرت نے فرمایا کہ جس زبان سے جھوٹ نکلنا بند ہوجاتا ہے، اللہ تعالی اس زبان سے نکلی ہوئی ہر دعا کو پورا کردیتے ہیں۔

انسان کے ہر قول اور عمل کی درستی کی بنیاد اس کے دل و زبان کی یکسانیت ہے۔ دل اور زبان کی باہمی مطابقت اور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونے کا نام صدق یا سچائی ہے۔

سچے انسان کے لیے نیکی کے حصول کا راستہ آسان ہوتاہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "سچائی نیکی کی راہ بتاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے”۔ سچائی کی عادت بہت سی برائیوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ سچا انسان برائی سے پاک ہونے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اس کی دلیل کتب سیر میں مذکور یہ واقعہ ہے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ میں چار بری خصلتیں ہیں۔ بدکار ہوں، چوری کرتا ہوں، شراب پیتا ہوں، جھوٹ بولتا ہوں۔ ان میں سے ایک کو آپ کی خاطر چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ ارشاد فرمایا: جھوٹ نہ بولا کرو۔

اس شخص نے جھوٹ نہ بولنے کا عہد کیا۔ جب رات ہوئی تو شراب نوشی کو جی چاہا، بدکاری کے لیے آمادہ ہوا تو اس کو خیال گزرا کہ صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پوچھیں گے کہ رات تم نے شراب پی اور بدکاری کی؟

تو کیا جواب دوں گا؟ اگر ہاں کہوں گا تو شراب اور زنا کی سزا دی جائی گی اور نہیں کہنے کی صورت میں عہد کی خلاف ورزی ہوگی۔ یہ سوچ کر دونوں سے باز رہا۔ جب اندھیرا خوب چھا گیا تو چوری کے لیے گھر سے نکلنا چاہا لیکن پھر پوچھ گچھ کے خیال سے ارادہ ترک کیا۔ صبح کو خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! جھوٹ نہ بولنے سے میری چاروں بڑی خصلتیں مجھ سے چھوٹ گئیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔

سچ یا جھوٹ کی نوبت ہی اس وقت آتی ہے جب معاملہ پھنستا ہوا نظر آتا ہے، اور عموماً اس کے پیچھے کوئی ڈر اور کوئی خوف پوشیدہ ہوتا ہے۔ کہیں مال کے ضا‏ئع ہونے کا ڈر، کہیں جان جانے کا ڈر، کہیں لوگوں کی نظروں سے گر جانے کا ڈر تو کہیں نوکری چلی جانے کا ڈر، اور ڈر کا یہ سلسلہ زلف جاناں کی طرح دراز ہے یہاں تک کہ کہیں والدین کا ڈر، کہیں بچوں کا ڈر، کہیں استاذ کا ڈر تو کہیں طلبہ کا ڈر، کہیں بیوی کا ڈر تو کہیں شوہر کا ڈر، کہیں ذمہ داروں کا ڈر تو کہیں کسی اور کا ڈر۔ اوریہ ڈر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سے جانے یا انجانے میں کوئی ایسا عمل سرزد ہوجاتا ہے جس کا اظہار معیوب ہو، یا اس کی وجہ سے کسی پریشانی کا اندیشہ لاحق ہو۔ اور اس پریشانی سے بچنے کے لیے کوئی بہانہ تراشتا ہو۔

کوئی خوبصورت سا بہانہ بنا کر اپنا دامن بچا لینا چاہتا ہو۔ ایسا کرنے پر وقتی طور پرتو وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے مگر جھوٹ تو جھوٹ ہے اس کا پردہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں ضرور فاش ہوتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کا انجام برا ہوتا ہے۔

جھوٹ ایک فریب ہے، جھوٹ ایک دھوکہ ہے، جھوٹ ایک بیماری ہے، جھوٹ ایک نہایت ہی بری خصلت ہے۔ جھوٹ سے اعتماد کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جھوٹ سے آپسی تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں، جھوٹ سے انسان اخلاقی معیار سے نیچے گر جاتا ہے۔ جبکہ سچ ایک طاقت ہے، ایک اعلی ترین خصلت ہے۔ سچ سے انسان کو بلندی ملتی ہے۔ سچ انسان کو مضبوط بنادیتا ہے۔ سچ سے آپسی اعتماد بحال ہوتا ہے اس لیے جب انسان سچ کو اپناتا ہے تو فطری طور پر اس کے دل سے اللہ کے سوا تمام لوگوں کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے مجھے اس کے سامنے بھی جواب دینا ہے۔ ممکن ہے اس دنیا میں جھوٹ بول کر نکل جاؤں مگر کل قیامت کے میدان میں جب اللہ کے سامنے میری پیشی ہوگی تو کیا جواب دوں گا؟ نتیجتاً ایسا انسان برائيوں سے بچ جاتا ہے یا کوئی ایسی حرکت کرنے سے گریز کرتا ہے جس کے کرنے سے بعد میں ندامت ہو۔

سچا انسان دل کا صاف ہوگا، ریاکاری اور منافقت سے دور ہوگا، خوشامدی سے اپنے آپ کو بچا کہ رکھے گا، دل و زبان میں یکسانیت اس کی شان ہوگی۔
راست گوئی، ایمانداری، دلیری، ایفائے عہد ووعدہ، اعتماد اور عزت جیسی اخلاقی خوبیوں کے حصول کا آسان راستہ زبان، دل اور عمل کی سچائی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ آنے والی نسلوں کو سچ کی اہمیت سے آشنا کریں ، سچ کا سامنا کرنے کے گر سکھائیں۔ کیونکہ پرامن اور پر سکون معاشرہ تشکیل دینا، اخلاقی برائیاں ختم کرنا، آخرت میں صدیقین کا مقام حاصل کرنا اور جنت کی ضمانت فضل الہی کے بعد سچ کی طاقت سے ہے۔
Twitter|
@AdnaniYousafzai