صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

صوفی ازم لفظ کے بارے میں محتلف روایات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوفی عربی لفظ ‘صوف’ سے ہے جس کے معنی اون کے ہیں۔ کیونکہ شروع میں مسلمان اون کے بنے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ لفظ ‘صفہ’ سے ماخوذ ہے جو صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں علم حاصل کرتے اور ذکر کرتے تھے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ یونانی Sophia سے ماخوذ ہے۔جو معاشرے میں عقل شعور کی ترویج کرتے تھے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی لفظ صفا سے ہے جسکی معنی خالص اور صاف کے ہیں۔ کیونکہ صوفی دلوں کو بغض، گناہوں، اور برائیوں سے پاک صاف کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صوفا جو لوگ اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی خدمت کرتے تھے۔ المختصر صوفی وہ لوگ ہیں۔ جو بغیر کسی لالچ اور، ذاتی مفاد کے تمام انسانوں کے دلوں کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کریں۔ دل کی صفائی و اصلاح صوفی ازم کا کام ہے۔ بنیادی طور پر صوفی ازم کسی مذہب کا محتاج نہیں کیونکہ صوفی ازم بین المذاہب سوچ وفکر ہے۔ صوفی ازم مختلف ناموں سے ہر مذہب میں موجود ہے۔ صوفی کا کام پیار، محبت، امن، بھائی چارہ اور قربانی کا درس دینا ہے چاہے مذہب ہندو ازم ہو، عیسائیت ہو یا اسلام، سکھ ازم ہو یا بدھ مت۔ لہذا موجود دور میں نفرتوں، لالچ،خود غرضی، انتہا پسندی اور دیگر معا شرتی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے صوفی ازم کی ترویج وقت کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.