fbpx

لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

دوبارہ انتخاب سے قبل ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی جائے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے کل 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئیاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

عدالتی کاروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنیوالے وی لاگرزکیخلاف کاروائی کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیس کی سماعت کی رپورٹنگ پر میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں،چند وی لاگرز نےعدالتی کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،ایف آئی اے اور پیمرا ایسے وی لاگرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اگرکوئی بھی درخواست دے گا توکارروائی کے بعد ایسے وی لاگرزکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،

،جسٹس ساجد سیٹھی کا فیصلے میں اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں ،ڈپٹی اسپیکرکو وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ کرانا چاہیے،دوبارہ انتخاب ان امیدواروں کے درمیان ہونا چاہیے جنہوں نے زیادہ ووٹ لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 جولائی شام 4 بجے بلایا جائے ،اجلاس 2 جولائی کو بلانے کا مقصد دورسے آنے والے اراکین کو سہولت دینا ہے،پنجاب اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ضروری ہے کہ اراکین کو وقت دیا جائے،وزیراعلیٰ کا دوبارہ انتخاب کا حکم دینا سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا ،ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ صاف ،شفاف اورغیر جانبدارالیکشن کرانے کا حکم دینے کا مجاز ہے، 25 منحرف اراکین کے ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کے حق میں 172 ووٹ رہ جاتے ہیں،حمزہ شہبا زوزیراعلیٰ کے آفس میں ایک اجنبی ہیں حمزہ شہبا زعہدے پر فائز رہے تو مخالف فریق پر سیاسی برتری ہوگی حمزہ شہبا ز کا بطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن منتخب ہونے کے دن سے کالعدم قرار دیا جائے،عثمان بزدار کی جگہ حمزہ شہبا زکا بطور وزیراعلیٰ انتخاب بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے انتخاب کے لیے بلایا جانے والا اجلاس بھی غیر قانونی ہے، عثمان بزدارکو بطوروزیراعلیٰ کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہے ،حمزہ شہبا ز کی طرف سے 30 اپریل سے آج تک کے احکامات برقراررہیں گے

لاہورہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواستوں کو نمٹا دیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظورکر لی گئی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انتخاب کالعدم قراردے دیا، فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا جسٹس ساجد محمودسیٹھی نے فیصلے سے مشروط اختلاف کیا

وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکا حلف کالعدم قراردیا ہے،ہماری درخواستیں منظورہوئی ہیں ہم نے آئین ،قانون اور انصاف کی بات کی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمز ہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے ،فیصلے میں کہا گیا جو وز یراعلیٰ ڈیفکٹو کے ووٹ سے منتخب ہواوہ ٹھیک نہیں ،

گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل نےلاہورہائیکورٹ میں دلائل مکمل کر لیے تھے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان ،محمود الرشیدم راجہ بشارت لاہور ہائیکورٹ میں موجود تھے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر اور اظہر صدیق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان جبکہ تحریک انصاف کے علی ظفر اور ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے تھے۔ صدر مملکت کی نمائندگی احمد اویس، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی کی بیرسٹر علی ظفر اور امتیاز صدیقی نے کی تھی

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب کے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ہم پر جو عذاب مسلط تھا وہ اب نہیں رہا،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اب عثمان بزدار نگران وزیر اعلی ٰہیں

فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

وزیراعلیٰ پنجاب بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ، ن لیگ کا خیر مقدم،تحریک انصاف کا چیلنج کرنے کا اعلان

تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پوری قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ،عمران خان کا موقف درست ثابت ہوا، ہم پچھلی صورتحال میں واپس چلے گئے ہیں حمزہ شہبا ز نے جو بھی فیصلے کیے وہ تمام کالعدم ہوگئے،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب کے سیاسی بحران میں مزید اضافہ کر دیا ،حمزہ کی حکومت برقرار نہیں رہی لیکن جو حل دیا گیا ا س سے بحران ختم نہیں ہو گا،فیصلے میں کئی خامیاں ہیں لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلا لی ہے ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے،

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، پنجاب کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم کورٹ کے ہر فیصلے کا احترام کر تے ہیں، پچھلے انتخاب کا تسلسل رہے گا، ہماری تعداد 177 ہے، ہم 9 ووٹوں سے آگے ہیں، کلیئر فیصلہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،ابھی تک ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم پھر جیت جائیں گے خوش آئند فیصلہ ہے، تسلیم بھی کرتے ہیں اور عمل بھی کریں گے، تحریک انصاف کہہ رہی ہے وہ اپیل میں جائیں گے، ضرور جائیں،رانا مشہود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جو دھوکہ عوام سے کرتی رہی آج بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی،الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو کارروائی عدالت کرے گی،کلیئر فیصلہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ ، ن لیگ نے حکمت عملی طے کر لی ارکان پنجاب اسمبلی کو آج ہوٹل ٹھہرایا جائے گا حمزہ شہباز کےہمراہ کل تمام ارکان اکھٹے پنجاب اسمبلی اجلاس میں جائیں گے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے خلاف عمران خان کے جرائم کی فہرست طویل ہے،منی گالہ گینگ کے ذریعے پنجاب کے پیسہ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا، پنجاب کے عوام کو ان کے حق سے محروم کر کے مشکلات پیدا کیں،م

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قانونی اور سیاسی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی علی ظفر ایڈووکیٹ ، مونس الہٰی ، راجہ بشارت مشاورت میں شریک تھے حسین جہانیاں گردیزی ، حافظ عمار یاسر بھی مشاورت میں شریک تھے علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے پر شرکا کو بریفنگ دی ہائیکورٹ کے فیصلے میں بعض ابہام کی طرف بھی بریفنگ میں نشاندہی کی گئی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے11 آدمی حج پر چلے گئے ہیں،پہلے ہاوس مکمل کریں پھر گنتی کرائی جائے،پسمجھ نہیں آرہا کہ12گھنٹے دیئے گئے ہیں،لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں،پ

عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں