fbpx

پارٹی ہیڈ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا،چیف جسٹس

سپریم کورٹ ،حمزہ شہباز کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

ایڈووکیٹ لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں اور چاھتے ہیں صورتحال میں بہتری آئے کچھ درخواستیں زیر التوا ہیں، پارلیمنٹ اور عدلیہ ملکی نظام کا حصہ ہیں،ہماری درخواست ہے کہ فل کورٹ بناکر سماعت کی جائے،ہم تمام بار صدور فل کورٹ بنانےکی استدعا کرتے ہیں ہم اس معاملے پر چیمبر میں ملنا چاہتے تھے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے چیمبر آپ کے لئے کھلے ہیں،آپ جانتے ہیں یہ کیس ہمارے ایک فیصلے سے متعلق ہے،ہم اس کیس کو سننا چاہتے ہیں، ہمارے سامنے بار کے 10 صدور موجود ہیں، صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ ہم عدالت کے ساتھ ہیں ، مدد کرنا چاہتے ہیں،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی نشست لیں ہم ان دونوں معاملات کو دیکھتے ہیں،ہم آپ کو ترتیب سے سنیں گےسارے صدور کیس کی گریوٹی کو بڑھانا چاہتے ہیں، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ کچھ پارٹیوں کی طرف سے فریق بننے کہ درخواستیں آئی ہیں ان کو نمبر نہیں لگایا جارہا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم کہہ دینگے کہ ان کو نمبر لگا دیں، زرا کیس کو سیٹ اپ ہونے دیں، ،فاروق نائیک وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمیں درخواست واپس کردی گئی ہے نمبر لگانے کا حکم دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ، کیا آپ نے میوزیکل چیئر کی گیم کھیلنی ہے ، فاروق نائیک نے کہا کہ کرسی آنی جانی ہے انسان کو ڈٹے رہنا چاہیے ،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے وکیل صاحب ہیں ؟ عرفان قادر عدالت میں پیش ہوگئے اور کہا کہ ملکی لارجر انٹریسٹ میں یہاں عدالت میں پیش ہوا ہوں،عدالت کی معاونت کروں گا، ملکی مفاد میں یہاں عدالت میں پیش ہوا ہوں اس معاملے پر استدعا ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنی نکات بنائے ہیں جو فل کورٹ کی تشکیل کے بارے میں ہوں، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی میں نے نکات بنائے ہیں، پارٹی ہیڈ کا کوئی اور موقف اور پارٹی کے ارکان جو ایوان میں ہیں ان کا موقف الگ ہے ، یہ سوال آپ کے سامنے ہے میں اپنے دلائل وہاں سے شروع کرونگا جہاں ہفتے والے دن سماعت کے دوران ختم کئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا سوال آرٹیکل 63 اے سے متعلق ہے،عرفان قادر نے کہا کہ آرٹیکل 184/3کی درخواست پر آرٹیکل 63اے پر فیصلہ آیا،یہ کیس نیشنل امپارٹنس کا ہے،یہاں ساری پارٹیاں موجود ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمارے فیصلے میں میرے مطابق عدالتی فیصلے میں کوئی ابہام نہیں، عرفان قادر نے کہا کہ آپ کے فیصلے میں ابہام ہے،آپ درخواست گزار سے بھی پوچھیں کہ ان کا کیا سوال ہے؟ جسٹس اعجازلاحسن نےعرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار بول رہے ہیں ہماری بات بھی سنیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری بات نہیں سننی تو کرسی پر بیٹھ جائیں ،عرفان قادر نے کہا کہ آپ چیف جسٹس ہیں وکیلوں کو ویسے بھی ڈانٹ پلا سکتے ہیں، لیکن آئین میں انسان کے وقار کی بات کی گئی ہے وہ بھی سامنے رکھیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہم آپ کو محترم کرکے بلا رہے ہیں، عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمانی پارٹی لیڈر کو فیصلے کا حق ہے

سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قانونی سوال ہے جب تک ہم ایک پیج پر نہیں ہونگے تب تک ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکیں گے ، عرفان قادر نے کہا کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں اس سوال کو سمجھوں ،عدالت تسلی رکھے ہم لڑنے نہیں بلکہ عدالتی معاونت کرنے آئے ہیں، عدالت ہم سے ناراض نہ ہو جو بھی سوال پوچھا جائے گا وہ بتائیں گے،عرفان قادر نےسپریم کورٹ کے فیصلے کا پیرا ایک پڑھا اور کہا کہ آئین میں پارلیمنٹری پارٹی کا ذکر کیا گیا،اس پر تفصیل سے بات کرونگا،جسٹس منیب اختر نے کاہ کہ پہلے آپ فیصلہ مکمل پڑھ لیں اس کو سنیں گے،عرفان قادر نے کہا کہ ٓاپ نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 63 کا مقصد سیاسی پارٹیوں کے مفادات کو تحفظ قرار دیا ہے۔

عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان کو روسٹرم پر طلب کرلیا ،وکیل منصور اعوان نے کہا کہ میں نے اپنا جواب جمع کرادیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ فیصلے کے کونسے حصے پر ڈپٹی اسپیکر نے انحصار کیا اس کا بتائیں، وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ فیصلے کے پیرا گراف تین پر ڈپٹی اسپیکر نے انحصار کیا ہے،عدالت کے سامنے سوال ہے کہ پارلیمنٹری پارٹی کا کردار پارٹی ہیڈ کے ہوتے ہوئے کیا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 14 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63اے شامل کیا گیا،آپ کےپاس سیاسی پارٹی کے سربراہ کے بارے میں کیا قانونی دلائل ہیں؟ آپ کے دلائل سے یہ سمجھا ہوں کہ ووٹنگ کے عمل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ،وکیل منصور اعوان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے میں مزید وضاحت کی گئی،8رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید کے 8 رکنی فیصلہ کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ارکان اسمبلی میں موجود ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں،سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایات ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے میں ایک اہم اور سنجیدہ اشو ہے،آپ نے پہلے دلیل میں کہا کہ 8 میمبرز بنچ کا فیصلہ موجود ہے،کیا یہ وہی کردار ہیں جس کی پابندی ہے ؟ وکیل منصور اعوان نے کہا کہ عدالت کا فل کورٹ اس کیس کے میریٹ کو دیکھے، آئین میں جو الفاظ ہیں اس پر غور کرنا ہوگا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر بار بنچ اگر نمبر کے حساب سے دیکھیں تو وہ اشو نہیں ہوتا، وکیل منصور اعوان نے کہا کہ اگر چھوٹا بینچ سمجھتا ہے کہ بڑا بننا چاہیے تو پھربننا چاہیے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی دلیل سے سمجھے ہیں کہ ہمارے فیصلے کا پیرا ون ون ٹو ایسا ہے جس پر کچھ ہوسکتا ہے، پارٹی کے بنیادی حقوق کی بات کریں تو پھر دو اقسام کا کنٹرول سامنے آ رہا ہے اس پر کسی نے ابھی دلیل نہیں دی،ایک طرف پارٹی ہیڈ اپنے اختیارات استعمال کرکے ووٹ استعمال نہیں کرنے دیتاتو دوسری طرف ارکان ووٹ ستعمال کرنا چاہتے ہیں،ہمارے خیال میں ہمارا دیا گیا فیصلہ واضح ہے، مختصر فیصلے میں آپ پارلیمنٹری پارٹی ہیڈ اور پارٹی ہیڈ میں کنفیوژ ہورہے ہیں حالانکہ فیصلہ بڑا واضح ہے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق پارلیمانی پارٹی پارٹی صدر کے ماتحت ہے، پارٹی سربراہ انتظامی معاملات میں خودمختار ہے، پارلیمانی پارٹی اسمبلی میں فیصلے کرنے میں با اختیار یے، آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی درخواستوں میں صرف ووٹ مسترد ہونے کا نقطہ ہے،پارلیمانی پارٹی ہدایت کیسے دے گی یہ الگ سوال ہے، ہدایت دینے کا طریقہ پارٹی میٹنگ ہوسکتی ہے یا پھر بذریعہ خط،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ عدالت کے مختصر فیصلے نے ابہام پیدا کئے؟ وکیل منصور اعوان نے پارٹی سربراہ کے عہدے اور اس کے اختیارات پر تفصیلی دلائل دیئے، وکیل منصور اعوان نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر عدالتی فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کی نفی ہے،سیاسی پارٹی ایک سپرا اسٹرکچر ہے،ڈپٹی اسپیکر نے فیصلے کے کس حصے کے تحت کارروائی عمل میں لائی میں اس پر اب دلائل دیتا ہوں ،سیاسی پارٹی ایک سپرا اسٹرکچر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے پارٹی اراکین کو ہدایت کیسے دی جاسکتی ہے اس کا طریقہ کیا خط لکھ کر دیا جانا ہے ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں چودھری شجاعت رکن اسمبلی نہیں ، صورتحال پہلے سے مختلف ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منحرف ہونے والے عمل میں ایکشن لینے والا پارٹی ہیڈ ہوتا ہے،پارٹی سربراہ رکن کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے، اس کا اہم کردرا ہے،میرے ذہن میں واضح ہے کہ پارٹی میں کون ہدایات دے سکتا ہے کون فیصلہ کرسکتا ہے،جمہوریت میں معاملہ پارٹی ہیڈ کے پاس جاتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 کے کچھ زاویے ہیں ،

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے پاس کچھ ہدایات آئی ہیں اگر اجازت ہو تو بتا دوں؟ جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بتا دیں،صدارتی ریفرنس میں ہمارے پاس بہت چیزیں سامنے آئی ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ اگر پارلیمنٹری پارٹی کہ طرف سے ہدایت آتی ہے تو وہ اس کا اہمیت ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت پر یہ بات ذہن میں آئی کہ جمہوریت کو پارٹی ہیڈ کی آمریت سے پاک رکھنا ہے،پارلیمانی جماعت کو خود مختار ہونا ہو گا، پارٹی ہیڈ کا کردارضرور اہم ہےمگر پارلیمانی معاملات میں پارلیمانی پارٹی کا بااختیار ہونا ضروری ہے،پارٹی ہیڈ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے کچھ سوال آئے ہیں ایک سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کے جس پیرا کی تشریح کی وہ کیا صحیح ہے؟ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے رولنگ دی،آئین میں پارلیمانی نمائندوں کو اختیارات دیئے گئے ہیں،کیا پارٹی کا رکن پارٹی ہدایات سے ہٹ کر فیصلہ کرسکتا ہے؟کیا ڈپٹی اسپیکر نے صحیح تشریح کرکے رولنگ دی؟ وکیل منصور اعوان نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے صحیح تشریح کرکے رولنگ دی،ڈپٹی اسپیکر کے پاس عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ارکان پارلیمنٹ سے پارٹی ہیڈز کی آمریت کے بارے میں سنا ہے ،پارلیمانی پارٹی کا ایک موقف ہونا چاہیے، چاہے وہ پارٹی سربراہ کے زیراثر ہی کیوں نہ ہو،ارکان پارلیمنٹ کی آواز کو دبانے سے بچانے کے لیے پارلمانی پارٹی کا کردار ہونا چاہیے ،وکیل منصور اعوان نے کہا کہ فیصلے میں صرف یہ واضح کیا گیا کہ پارلیمانی پارٹی کیا اور اس کا کیا کردار ہے، اسپیکر نے فیصلے کا سہارا لیا اور اس کے کچھ حصوں پر عمل کیا،عدالت نے کہا کہ فیصلے میں واضح ہے کہ اگر کسی رکن نے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی تو ووٹ مسترد ہوگا،

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں پارلیمان میں کوئی سربراہ نہیں ہوتا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ ارکان کو پارٹی ہیڈ ہدایات دے گا. اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمارے وکیل نوجوان ہیں انہوں نے اپنے کندہوں پر بڑا بوجھ اٹھایا ہے ،وکیل نے کہا کہ منحرف ارکان کے بارے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو سوال کررہے ہیں وکلا اس سے پریشان نہ ہوں،وکیل منصور اعوان اچھے سے دلائل دے رہے ہیں،

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکرنے رولنگ دینے پہلے چوہدری شجاعت کا خط ہاوس کے سامنے رکھا؟ وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں وزیرقانون نے روسٹرم پرآ کروکیل حمزہ شہباز سے گفتگو کی جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل حمزہ شہبازہیں نا کہ وزیر قانون، آپکو ہدایت وزیرقانون نہیں دے سکتے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس گزشتہ معاملے سے ہٹ کر معاملہ آیا ہے یہاں پر 10 ارکان نے ایک امیدوار کو ووٹ دیا کیونکہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ تھا ،قانون حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے سوال یہ تھا کہ کیا ڈکلیئریشن دیا جاسکتا تھا یا نہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں بھی یہ انکار نہیں کیا گیا کہ ہمیں کوئی ہدایات نہیں ملیں کیس میں جو شوکازنوٹس جاری کیے تھے وہ اسد عمرکی دستخط سے جاری کیے گئے تھے،انہوں نے اپنے ارکان کے خلاف ایکشن لیا تھا،الیکشن کمیشن میں کیس شوکاز جاری نہ ہونے کا تھا،اپیل میں بھی منحرف ارکان نے یہی موقف اپنایا ہے، وکیل نے کہا کہ شوکاز نوٹس اسی وقت جاری ہوسکتا ہے جب پارٹی ہیڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہو،

وکیل منصور اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے ریفرنس پر ارکان کو ڈی سیٹ کیا منصور اعوان نے عمران خان کی ہدایت پر مبنی صفحہ عدالت میں پیش کردیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال ہے کہ کیا پارلیمانی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کواووررول کرسکتا ہے ، بنیادی سوال ہے پارٹی ہیڈ نے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو اوو رول کیا آپ ہمیں اس پر مطمئن کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں جو باتیں لکھی ہیں ان میں وہ نہیں جو یہاں کررہے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کریں تو ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غلط ہو جائیگی، وکیل نے کہا کہ پارلیمانی پالیسی ہی پارٹی کی ہدایت ہوتی ہے ،عرفان قادر نے کہا کہ کیا پورے کیس میں آج ہی دلائل سنے جائینگے یا پھر فل کورٹ میں بھی سنا جائیگا میں نے تو ابھی اپنے کیس پر دلائل دیئے ہی نہیں،جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم صرف فل کورٹ سے متعلق بات سن رہے ہیں ،حمزہ شہباز کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ نے اچھے اور مدلل دلائل دیئے،

چودھری شجاعت کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین روسٹرم پرآ گئے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو ابھی تک فریق نہیں بنایا لیکن آپ کو سن رہے ہیں،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ آپ فل کورٹ تشکیل دیں،میرے موکل بھی یہی چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بنایا جائے، وکیل پرویز الہیٰ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 22 جولائی کو وزیر اعلی کےلیے الیکشن ہوئے،قانون کے مطابق جو ووٹ کاونٹ ہوئے ہیں اس پر پرویز الہیٰ صوبے کے وزیر اعلی ہیںڈپٹی اسپیکر نے ایون میں چوہدری شجاعت کا خط لہرایا،ووٹنگ سے پہلے ڈپٹی اسپیکر نے وہ خط کسی کو نہیں دکھایا،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں اس عدالت کے فیصلے کا سہارا لیا،وکیل علی ظفر نے اسپیکر رولنگ کے نکات پڑھ کر سنائے،ڈپٹی سپیکر نے پولنگ کے دوران خط ظاہر نہیں کیا،آخری وقت پر خط لہرا کر دس ووٹ مسترد کر دیئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر انحصار کیوں نہیں کیا؟

وکیل پرویز الہیٰ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں 63/اے کو جو سمجھا ہوں اس عدالت کو بتاتا ہوں،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بیرسٹر علی ظفر کو ہدایت کی کہ آپ فل کورٹ تشکیل دینے یا نہ دینے پر دلائل دیں جودوسرے فریق کے وکیل نے دلائل دیئے ہیں آپ پھر ان پربھی دیں،دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پر دلائل دئیے ہیں آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے۔ آپ دوسری سائیڈ کی فل کورٹ کی استدعا کو کیسے مسترد کرینگے؟

پارٹی سربراہ کو پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلیئریشن دینا ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اے سے متعلق عدالت پہلے ہی مفصل رائے دے چکی ہے فل کورٹ کی کیا ضرورت ہے یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ فل کورٹ بنائے یا نہیں،گزشتہ 25 برس کے دوران صرف 3 یا 4 مقدمات میں فل کورٹ بنی،کئی ایسے مقدمات ہیں جن میں فل کورٹ کی استدعا مسترد کی گئی، عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے،کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟گزشتہ سالوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئی،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا، مقدمات پر فوکس ہونے سے ہی زیر التواء کیسز کم ہو رہے ہیں، علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ عدالت اس پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے،بڑے صوبے کو بغیر وزیر اعلی ٰکے نہیں رکھا جا سکتا، عدالت نے جو ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا فیصلہ دیا تھا وہ لا آف لینڈ ہے،پوری قوم آپ کی شکر گزار ہے کہ آپ نے اچھا فیصلہ کیا،اگر نظرثانی درخواست پر سماعت کی جاتی ہے تو 5 رکنی لارجر بینچ بنایا جائے،پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی اور ساتھ کہا کہ ہمیں اس بینچ پر مکمل اعتماد ہے،سپریم کورٹ میں پرویز ا لہٰی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے عدالت میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی گئی باتوں کا تحریری مسودہ پڑھ کر سنایا گیا

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جاکر آپس میں مشاورت کرینگے کہ یہی بینچ سنے یا فل کورٹ سماعت کرے ہم سب کو بریک کی ضرورت ہے کورٹ 5:30 پر دوبارہ شروع ہوگی،
سماعت میں وقفہ