fbpx

توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے عمران خان سے ہفتے تک جواب مانگ لیا

توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے عمران خان سے ہفتے تک جواب مانگ لیا
سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ ایڈووکیٹ بابر اعوان اور فیصل چودھری کیس میں فریق نہیں تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی کو نوٹس نہیں کیا صرف الزامات پر جواب مانگا ہے،پہلے حکومتی وکیل کو سن لیتے ہیں پھر آپکو سنیں گے،عمران خان نے تفصیلی جواب کیلئے وقت مانگا ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے اور کہا گیا کہ عمران خان نے کسی بھی یقین دہانی سے لاعلمی ظاہر کی ہے، عمران خان نے جواب میں عدالتی حکم سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔فیصل فرید چوہدری کے مطابق ہدایت اسد عمر سے لی تھیں۔ فیصل چوہدری کے مطابق ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہو سکتا تھا۔بابر اعوان کے مطابق عمران خان کا نام کسی وکیل نے نہیں لیا تھا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 25 مئی کو پہلے اور دوسرے عدالتی احکامات میں کتنی دیر کا فرق ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلا حکم دن گیارہ بجے دیا گیا دوسرا شام 6 بجے،دونوں احکامات کے درمیان کا وقت ہدایت لینے کیلئے ہی تھا-چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو نہیں بتایا گیا تھا کہ ہدایت کس سے لی گئی ہے، اگر کسی سے بات نہیں ہوئی تھی تو عدالت کو کیوں نہیں بتایا گیا اس بات کی وضاحت تو دینی ہی پڑے گی عدالت نے بابر اعوان اور فیصل چوہدری پر اعتماد کیا تھا دونوں وکلاء نے کبھی نہیں کہا انہیں ہدایات نہیں ملی عمران خان کو عدالتی حکم کا کیسے علم ہوا، یقین دہانی پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کی جانب سے کرائی گی تھی۔ پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کا آغاز عمران خان سے ہوتا ہے۔عمران خان نے تفصیلی جواب کا وقت مانگا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2014 میں بھی این او سی کی خلاف ورزی کی تھی۔ سپریم کورٹ میں عمران خان پر شرمناک کہنے پر توہین عدالت کا کیس چلا۔ دو مرتبہ عمران خان الیکشن کمیشن سے بھی معافی مانگ چکے ہیں۔عدالت کئی مرتبہ تحمل کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس ماضی کے مقدمات سے مختلف ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جلسے کے لیے مختص جگہ سے گزر کر عمران خان جناح ایونیو آئے بلیو ایریا میں عمران خان نے تقریر صبح 7:30 پر کی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن واقعات کا ذکر آپ نے کیا وہ عمران خان کے آنے سے پہلے کے ہیں۔

وکیل احسن بھون نے کہا کہ فیصل چودھری نے عدالتی ہدایت پر بابر اعوان سے رابطہ کیا تھا،وکلا نے کہا تھا اٹک عمران خان کے پاس جانا ممکن نہیں،عدالت نے حکومت کو وکلاکی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ وکلا کا رابطہ نہیں ہوا تو یقین دہانی کس طرف سے کرائی؟ وکیل احسن بھون نے کہا کہ حکومت نے ملاقات کی سہولت ہی نہیں دی ہدایت کیسے لیتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا وکلا کی کسی سینئر لیڈر سے بات نہیں ہوئی تھی؟ کیا ٹیلی فونک رابطہ بھی نہیں کیا گیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل فیصل چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں آپکو کوئی نوٹس نہیں ہے،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹس سے زیادہ اپنے کیرئیر کی فکر ہے،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر رابطے کے وقت ریلی میں نہیں تھے؟ تصاویر کے مطابق تو اسد عمر ریلی میں تھے، جیمرز تھے تو اسد عمر سے رابطہ کیسے ہوا؟ اسد عمر کا عہدہ کیا ہے؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اسد عمر پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں،عدالتی حکم شام 6 بجے آیا تھا اسد عمر نے بتایا کہ انتظامیہ کو ایچ نائن گراونڈ کی درخواست دی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو خدشہ تھا امن و امان کی صورتحال پیدا ہو گی، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ پچس مئی کو ریڈزون کا آغاز ڈی چوک سے ہوتا تھا،پچس مئی کی شام حالات بہت کشیدہ تھے،عدالت نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے بھی منع کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے استفسار کیا کہ میڈیا کمرہ عدالت میں موجود تھا، عدالتی حکم میڈیا پر نشر کیا گیا تھا عدالت نے25 مئی کو توازن پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، اسد عمر سے دوسری بار بھی رابطہ ہو سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا،26مئی کے حکم میں عدالت نے کہا کہ اعتمادکو ٹھیس پہنچائی گئی ،ہفتے کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرینگے، وکیل نے کہا کہ وکلا کے پاس ہیلی کاپٹر ہوتا تو عمران خان کے پاس چلے جاتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے تو درخواست ہی ایچ نائن گراؤنڈ کی دی تھی،گاڑی یا جہاز نہ ہونا صرف بہانے ہیں،عدالت کو یقین دہانی کروا کر بہانے نہیں کیے جاتے سپریم کورٹ کا وکیل ہونا ایک اعزاز ہے،اسد عمر سے دوسری مرتبہ رابطہ کیسے نہیں ہوسکتا تھا؟ ایچ نائن سےآگے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، دو وکلا کے ذریعے عدالت کو گمراہ کیا گیا،اپنا قلم آئین کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہتے،دس ہزار بندے بلاکر 2لاکھ لوگوں کی زندگی اجیرن نہیں بنائی جاسکتی،جمہوریت کو ماننے والے اسطرح احتجاج نہیں کرتے،

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا،عدالت نے پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کو تحفظ دیا تھا،عدالتی حکم پر حکومت نے رکاوٹیں ہٹا دی تھیں ،

سپریم کورٹ نے عمران خان سے 5 نومبر تک تفصیلی جواب طلب کر لیا سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شواہد اور حقائق کی روشنی میں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے،عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا کو آئندہ ہفتے تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان توہین عدالت کیس میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سارا مواد ہمارے سامنے ہے لیکن نوٹس سے قبل جواب مانگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرینگے،

شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

دوسری جانب سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس جمعیت علماء اسلام نے لانگ مارچ کیخلاف درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی جمعیت علماء اسلام کی درخواست میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہونے کے باعث درخواست پر لارجر بنچ تشکیل دیا جائے،اہم نوعیت کا معاملہ ہے اس لیے درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کی جائے، لانگ مارچ سے تصادم کا خدشہ ہے،
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں

واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں